24 ستمبر 2011 - 20:30

امریکہ کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا حکومت ڈٹ کر کھوکھلی دھمکیوں کا مقابلہ کرے، قوم ساتھ ہے، دفاعی ماہرین

ابنا: پاکستان کی سابق عسکری قیادت اور ممتاز دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی دھمکیاں کھوکھلی ہیں ان کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت ثابت قدمی کا مظاہرہ کرے پاکستان کی اس وقت امریکہ کے لئے بہت اہمیت ہے اور امریکہ کسی طور پر پاکستان سے تعلقات نہیں بگاڑے گا اور اگر اس نے یہ حماقت کرلی تو اسے عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 لاہور۔۔۔۔۔سابق عسکری قیادت و دفاعی تجزیہ نگاروں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے موقف پر ڈٹی رہے، واشنگٹن کو بتایا جائے وہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف افغانستان میں کارروائی کیوں نہیں کر رہا، اوبامہ انتظامیہ افغانستان میں شکست قبول کرنے کیلئے تیار نہیں وہ شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہے، مشکل صورتحال میں فوج اور سیاستدان مل کر امریکہ کو ٹھوس پیغام دیں، خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا تو بھارت بھی اس سے نہیں بچ سکے گا۔ ایک انٹرویو میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے کہا کہ امریکی صدر بارک اوباما عوامی رائے کے مطابق افغانستان سے فوج واپس بلانا چاہتے ہیں جبکہ پینٹا گون افغانستان میں شکست قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور سیاستدانوں کی یکجہتی کا امریکہ کو اچھا پیغام جائے گا موجودہ صورتحال میں پاکستان کو کوئی رسک نہیں لینا چاہئے، انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں حالات خراب ہوئے تو بھارت بھی اس سے نہیں بچ سکے گا، بھارت کو چاہئے کہ موجودہ حالات میں ہوش کے ناخن لے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی 84 فیصد سپلائی اب بھی پاکستان کے راستے ہو رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) اشرف قاضی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں پاکستان پر الزامات بے بنیاد ہیں حقانی نیٹ ورک افغانستان میں بھی ہے امریکہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے الزامات پر پاکستان سکیورٹی کونسل میں جایا سکتا ہے۔ سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات نازک مرحلے پر پہنچ گئے ہیں، ایسے اتحاد کا کیا فائدہ جس سے پاکستان کو نقصان ہو۔ میجر جنرل (ر) جمشید ایاز نے کہا کہ امریکی بیانات کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بہتری آئی ہے موجودہ حالات میں اچھی بات ہے کہ سیاسی اور فوجی ادارے ایک موقف اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی الزامات پر پاکستان کو امریکی حکام سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی چاہئے اور اپنا موقف امریکہ کے سامنے ڈٹ کر پیش کرنا چاہئے۔

............

/169