ابنا: اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئي ایس آئی کے حقانی گروپ سے رابطے ہیں لیکن اس کا مطلب حمایت کرنا نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حقانی گروپ سے تعلق رکھنے والا پاکستان واحد ملک نہیں ہے بلکہ ایسے اور بھی ممالک ہیں کہ جن کے حقانی گروپ سے رابطے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی خفیہ ایجنسی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن گروپوں سے رابطے رکھے اور یہ کہ خفیہ ایجنسی دہشت گرد اور اپوزیشن گروپوں سے رابطے رکھتی ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس کے بیان میں دو باتیں ایسی ہیں کہ جن کی بابت اذہان میں کچھ ایسے سوالات سامنے آتے ہیں کہ اگر ان درست اور صحیح جواب نہ مل سکیں تو شکوک و شبہات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔البتہ اس قبل کہ سوال اٹھایا جائے میجر جنرل اطہر عباس صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہیے کہ آپ یہ بات دو ٹوک انداز میں امریکی حکام سے کیوں نہیں کہتے، اور ان پر یہ بات کیوں واضح نہیں کردی جاتی کی سی آئی اے کی طرح آئی ایس آئی کے بھی دہشت گرد گروپوں سے خفیہ رابطے ہیں۔البتہ یہ شائد پاکستانی اداروں کی مجبوری ہے اور وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں سمجھتے کہ امریکیوں سے اس انداز میں بات کی جائے۔ بہر حال اس کی وجہ کو جانے بغیر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی مخالفین اور اپوزیشن لیڈروں سے رابطے ضابطے کے عین مطابق ہوتے ہیں اور اس میں خفیہ اداروں کا کردار بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور بعض اوقات تو غیر ضروری نظر آتا ہے لیکن دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رابطے اور تعلق والی بات سمجھ سے بالا تر ہے۔ حقانی گروپ ایک مسلمہ دہشت گرد گروپ ہے اس گروپ کی کمر توڑنے کے لئے پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کا اس کے اندر نفوذ بل الکل معقول ہے لیکن ان کے ساتھ رابطے اور ان کے ٹھکانوں کا علم رکھنا اور یہ کہنا کہ پاکستان کو ان کی ضرورت نہیں، اس گروپ کی حمایت کرنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے حقانی گروپ کے ساتھ پاکستان کے رابطوں کا ایک اور جواز یہ پیش کیا کہ دوسرے ملکوں کے بھی اس گروپ کے ساتھ رابطے ہیں، البتہ سیاسی ملاحظات کی بنا پرانہوں نے کسی ملک نام نہیں لیا لیکن ان کا یہ انکشاف اپنے اندر خود کئی سوالات لئے ہوئے ہے۔ پہلا سوال تو یہ کہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ایک مسلح گروپ کے ساتھ جن ملکوں کے رابطے ہیں کیا وہ پاکستان کے دوست ہیں؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ان ملکوں نے کس بنیاد پر حقانی گروپ سے رابطے رکھے ہوئے ہیں؟ اور تیسرا سوال یہ کہ ان ملکوں کو بے نقاب کرنے میں کون سی چیز مانع ہے؟ ان تینوں سوالوں کے جواب بلا شبہ باخبر حلقوں کی نظروں سے پنہاں نہیں ہیں اور ایک جملے میں ان کا جواب دیا جاسکتا ہےکہ حقانی گروپ کی پاکستان کو ضرورت ہو یا نہ ہو امریکہ کوان کی ضرورت ہے اور یہی وجہ کہ امریکی فوجیوں اور نیٹو فورسز کی دسترسی میں ہونے کے باوجود حقانی گروپ نےافغانستان میں اپنے اڈے قائم کررکھے ہیں۔
...........
/169