23 ستمبر 2011 - 20:30

امریکہ فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ کابل پر حالیہ حملوں میں ملوث شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آلہ کار ہے۔

ابنا: قبل ازیں اسلام آباد پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے انکلِک الزامات کی تردید کرتے ہوئے ثبوت فراہم کرنے کی بات کی تھی۔ ایڈمرل مولن نے سینٹروں کو بتایا کہ ’گیارہ ستمبر کو کابل میں امریکی ایمبیسی پر ٹرک بم حملہ حقانی گروپ نے آئی ایس آئی کی معاونت اور مشاورت سے کیا تھا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اٹھائیس جون کو انٹر کونٹینٹل ہوٹل کابل کے حملے میں حقانی نیٹ ورک کے لوگ ہی ملوث تھے اور اس بارے میں ان کے پاس مصدقہ خفیہ اطلاعات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ گروہ کئی دوسرے چھوٹے مگر کامیاب حملوں میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ ایڈرمرل مولن نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان تشدد برآمد کر رہا ہے جس سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون خطرے میں پڑ گیا ہے بلکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف دس سالہ جنگ کا نتیجہ بھی ناکامی میں نکل سکتا ہے۔امریکی کانگریس کے سامنے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ہفتے قبل اپنے آخر بیان میں انہوں نے کہا افغانستان میں کامیابی حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے منسلک دیگر گروپوں کو پاکستان کے تعاون کے علاوہ افغان حکومت کی کرپشن سے بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فوجوں کا اسی رفتار سے انخلا جاری رہا اور افغانستان میں موجود کرپشن کے بارے میں کچھ نہیں کیا گیا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ فوج کے انخلا کے بعد ایک ایسا ملک پیچھے رہ جائے جس کی حکومت پر لوگوں کو اعتبار ہو۔ انہوں نے مزید کہا اس صورت میں افغانستان میں مقامی لڑائیاں شروع ہو سکتی ہیں اور پورا ملک بھی خانہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔مولن نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے تشدد کو ایک پالیسی کے تحت اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان تشدد برآمد کر کے اپنی داخلی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور خطے میں اپنی ساکھ کو بھی مجروح کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اپنی معاشی بحالی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا بھی کانگرس کے سامنے اس سماعت میں موجود تھے۔لیون پنیٹا نے کہا کہ پاکستان کے فوجی حکام کو واشگاف الفاظ میں بتایا دیا گیا ہے کہ سرحد پار ایسے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔پنیٹا نے کہا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیویڈ پیٹریئس نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل شجاع پاشا سے اپنی حالیہ ملاقات میں یہ پیغام پہنچا دیا ہے۔پنیٹا نے کہا پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ اس طرح کے شدت پسندوں کو سرحد پار کر کے ہماری فوجوں پر حملہ کرکے واپس پاکستان اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔‘۔۔۔۔۔۔۔۔/110