اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کل بحرین کے بہادر عوام نے دارالحکومت منامہ کے گرد گاڑیوں کی زنجیر بنا کر اس کو مکمل گھیرے میں لے لیا جس کو انقلاب بحرین اور بحرینی عوام کے حق طلبانہ اور جائز کے لئے شروع ہونے والی عوامی تحریک کا نیا موڑ قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ عظیم اور تاریخی واقعہ ایسے حال میں رونما ہوا کہ بحرین کے مختلف شہروں اور قصبوں میں عوامی احتجاج، ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کاسلسلہ بھی جاری رہا اور آج بھی جاری ہے۔-- منامہ میں ٹریفک مفلوج سیاسی اور انقلابی قیادت کی دعوت پر کل بحرین کے عوام نے گاڑیوں کے ذریعے دارالحکومت منامہ کا علامتی محاصرہ کرلیا جس کی وجہ سے منامہ کے تمام بیرونی راستے ٹریفک جام ہوجانے کے باعث بند ہوگئے۔

عوام نے احتجاج کے اس انوکھے اقدام میں بھرپور شرکت کی اور منامہ کا مواصلاتی رابطہ دیگر علاقوں سے منقطع ہوگیا جس کی وجہ سے آل خلیفہ کی حکومت نے مزید کاریں آنے کا راستہ روکنے کے لئے میدان القدم میں ناکے لگواديئے اور "الزہراء شہر" کا راستہ بند کردیا۔ بحرین کے معترض عوام نے مخالف جماعتوں کی دعوت پر کل (مورخہ 21 ستمبر 2011 کو) صبح سات بجے سے منامہ کی اصلی اور مرکزی سڑکیں بند کردیں اور گوکہ مخالف جماعتوں نے سڑکیں تین گھنٹوں تک بند کرنے کی دعوت دی تھی لیکن عوام سڑکوں پر موجود رہے اور اپنے اس احتجاجی اقدام کو جاری رکھا۔
ذرائع کے مطابق منامہ کی سڑکوں میں گاڑیوں کی آمد و رفت میں خلل پڑ گیا اور بھاری ٹریفک شارع القدم سے منامہ کے مرکز تک جام رہی لیکن عوام کی کاروں کے قافلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ مختلف علاقوں سے منامہ کی جانب جاری و ساری رہا تا کہ وہ آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج میں شرکت کرسکیں۔ آل خلیفہ حکومت کی فورسز نے بھی آل خلیفہ کی قابض فورسز کی مدد سے منامہ میں داخلے کے راستے بند کرکے عوام کو روکنے کی ناکام کوششیں کیں جبکہ خلیفی وزارت داخلہ نے بھی ایک بیان میں عوام کو دھمکی دی تھی کہ اس احتجاج میں شرکت کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن عوام نے احتجاج میں شامل ہو کر حکومت کی اس دھمکی کو مسترد کردیا۔
-- آج شام کو وحدت ملی کے وسیع مظاہرہ ہوالاکھوں بحرینیوں نے آج شام کو "عزم ملت" کے عنوان سے قومی وحدت کی ریلیوں میں شرکت کی اور ملک میں جمہوریت اور سیاسی مقدرات کے تعین میں عوامی کردار کا مطالبہ کیا۔جمعیۃالوفاق الاسلامی کے سربراہ شیخ علی سلمان نے مظاہرین سے خطاب کیا۔انھوں نے خواتین، مردوں، اسیروں، شہیدوں، زخمیوں، روزگار سے برخاست کرنے والوں سمیت بحرین کے عوام پر درود و سلام بھیجا اور کہا: ہم ملک میں مذہبی یا دینی اکثریت کی بات نہیں کررہے ہیں بلکہ سیاسی اکثریت کی بات کررہے ہیں اور یہ سیاسی اکثریت ملک میں تبدیلی چاہتی ہے۔انھوں نے کہا: بحرین میں تنازعہ دو گروہوں کے درمیان ہے ایک وہ گروہ ہے جو ملک میں آزادی اور جمہوریت چاہتا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو ملک استبداد اور آمریت کو قائم اور دائم رکھنا چاہتا ہے اور یہی سلسلہ مصر، تیونس، یمن اور لیبیا میں بھی جاری ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کا مسئلہ سنی اور شیعہ کا مسئلہ نہيں ہے بلکہ آزادی کے حامیوں اور آمریت کے حامیوں میں جھگڑا چل رہا ہے۔ یاد رہے کہ بحرینی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت "جمعیۃالوفاق الاسلامی" نے عوام کو آج (جمعرات 22 ستمبر 2011 کو) آل خلیفہ حکومت کے خلاف "توبلی" نامی شہر میں احتجاجی ریلی نکالنے کی دعوت دی تھی۔ سابقہ پروگرام کے تحت یہ ریلی جمعہ کے روز منعقد ہونا تھی لیکن کل "حمد" شہر میں ایک شہید بحرینی نوجوان کی تشدد زدہ لاش مل گئی جن کی تدفین کے مراسمات آج ہورہے تھے چنانچہ دونوں پروگراموں کو ایک ساتھ انجام دیا گیا۔ چند روز قبل شہید جعفر حسن یوسف کے جنازے کے جلوس کے بعد بحرین کے انقلاب کا نیا مرحلہ زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہوچکا ہے جس کے بعد آل خلیفہ کے غنڈوں اور کرائے کے ایجنٹوں اور بحرینی عوام کے درمیان جھڑپیں بھی شدید ہوگئی ہیں۔
عوامی حکومت بحرینی عوام کا واحد مطالبہ بحرین کے ایک سیاستدان نے کہا کہ بحرینی عوام کا واحد مطالبہ اس ملک میں عوامی حکومت کی تشکیل ہے اور عوام ایسی حکومت چاہتے ہیں جو عوام کی رائے سے منتخب ہو اور اس کی تشکیل میں عوام ہی کردار ادا کریں۔عباس صفوان نے کہا: بحرینی عوام آل خلیفہ کی حکومت کے خلاف اپنا انقلاب جاری رکھتے کے لئے پر عزم ہیں اور عوام آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا: 14 فروری کے دن عوامی انقلاب کا آغاز ہوتے ہی آل خلیفہ خاندان اپنا حق حکمرانی کھو گیا ہے اور عوام اس خاندان کا اقتدار مزید برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ وہ ڈکٹیٹر شپ کے مکمل خاتمے اور عوامی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کے بادشاہ نے دورہ نیویارک میں 14 عوامی نمائندے بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں جن میں سے 9 نمائندوں کا تعلق آل خلیفہ خاندا سے ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ بیرون ملک بھی بحرین کے نمائندے آل خلیفہ خاندان سے ہیں اور یہ صورت حال انقلابی عوام کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔
-- انقلاب بحرین، مظلوم ترین انقلابایک بحرینی سیاستدان نے بحرین میں آل سعود اور آل خلیفہ کے جرائم پر ذرائع ابلاغ کی مجرمانہ خاموشی کو بحرینی عوام کی مظلومیت کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کے درمیان بحرین کا انقلاب مظلوم ترین انقلاب ہے۔علی مشیمع نے کہا: بحرین کے مظلوم عوام کو غاصب آل خلیفہ، قابض آل سعود اور امریکا ہی کا سامنا نہیں ہے بلکہ انہیں ان جھوٹے ذرائع ابلاغ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بحرین کے حقائق کو الٹا پلٹا کر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف سے ان اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع کا بھی سامنا ہے جنہوں نے بحرین میں آل خلیفہ اور آل سعود کے مظالم اور جرائم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور یہ صورت حال سبب ہمارے انقلاب کی انتہائی مظلومیت کا سبب بنی ہوئی ہے اور آج عرب ممالک میں بحرین کا انقلاب مظلوم ترین ہے۔انھوں نے کہا: اس وقت امریکہ اور آل سعود کی ساز باز سے بحرین کے انقلاب کے خلاف ایک خفیہ بغاوت کی بنیاد رکھی جارہی ہے لیکن اس میں شک نہيں ہے کہ عوام تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں اور آخر کار آل خلیفہ حکومت کو عوام کی استقامت کی قیمت دینا پڑے گی۔انھوں نے بدھ کے روز عوام کی کار ریلیوں کے بارے میں کہا کہ عوام کے اس اقدام نے آل خلیفہ حکومت کا چین و سکون غارت کردیا ہے۔ انھوں نے کہا: عوام کے منامہ کے میدان شہداء میں لوٹنےکے لئے الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور وہ آل خلیفہ اور آل سعود کی گولیوں سے شہید ہونے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اس میدان میں ضرور حاضر ہونگے۔المشیمع نے کہا: بحرینی عوام کا عقیدہ ایثار اور شہادت پر استوار ہے اور ان کی تعلیمات بھی ایثار اور شہادت کا سبق دیتی ہیں چنانچہ عوام اپنے جائز مطالبات حاصل کرنے تک آل خلیفہ، آل سعود اور امریکہ کی تمام تر سازشوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے۔
عوامی احتجاج کے سامنے آل خلیفہ کی بے بسی / زوال و سقوط ہی آل خلیفہ حکومت کا مقدر بحرین کے ایک عوامی راہنما نے کہا ہے کہ عوامی انقلاب زور و شور سے جاری ہے اور آل خلیفہ حکومت تمامتر تشدد آمیز اقدامات اور دھمکیوں کے باوجود اس انقلابی تحریک کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور یہ عوامی انقلاب کے سامنے آل خلیفہ حکمرانوں کی بے بسی کا واضح ثبوت ہے۔راشد الراشد نے کہا: عوام نے کل کار ریلی میں شرکت کی اور منامہ کی سڑکوں کو بند کردیا اور یوں انھوں نے انقلاب بحرین کا میڈیا بائیکاٹ بھی ناکام کردیا اور ذرائع کی خاموشی توڑ دی۔ انھوں نے کہا کہ کل بدھ کے روز عوام نے بڑے امتحان سے عہدہ برآ ہوئے ہيں اور جمعہ کے روز بھی عظیم ریلیاں منعقد ہونگی اور عوام ان ریلیوں میں میدکن شہداء کو آل خلیفہ کے گماشتوں سے آزاد کرادیں گے۔انھوں نے کہا: بحرین کے انقلابی نوجوانوں نے کل کے اقدامات کے ذریعے ثابت کردیا ہے کہ وہ آل خلیفہ خاندانی حکومت کے خلاف اپنی مزاحمت کے لئے پر عزم ہیں۔انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے عوام کے حوصلے پست کرنے کے لئے گذشتہ سات مہینوں کے دوران تشدد کے تمام حربے آزمالئے، دسیوں کو شہید کیا، سیاسی اور انقلابی قائدین سمیت ہزاروں کو زخمی اور پابند سلاسل کیا، ہزاروں افراد کو روزگار سے برخاست کیا لیکن اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔الراشد نے کہا: آل خلیفہ نے فوج اور پولیس کو اپنا سہارا بنا رکھا ہے لیکن آج تک جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ زور زبردستی موثر نہیں ہے اور زوال و سقوط ہی آل خلیفہ حکومت کا مقدر ہے۔
-- بحرین میں ذرائع ابلاغ کی خاموشی ٹوٹ گئی بحرین کے ایک صحافی نے کہا کہ بدھ کے روز ہونے والے منامہ کے محاصرے نے ذرائع کا سکوت توڑ دیا۔جواد عبدالوہاب نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے 14 فروری سے لے کر اب تک سیکورٹی لحاظ سے عوام کی ناکہ بندی کررکھی ہے اور عوام نے اپنا احتجاج مختلف روشوں سے جاری رکھا جس سے حکومت کی یہ کوشش ناکام ہوئی اور عوام نے اپنی آواز پوری دنیا تک پہنچادی۔ انھوں نے بین الاقوامی تنظیموں نیز دنیا کے مختلف ممالک کے لیگل اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوام کے خلاف آل خلیفہ کا دباؤ کم کرنے کے لئے آل خلیفہ حکومت پر دباؤ بڑھادیں۔جواد عبدالوہاب نے کہا: آل سعود نے کرائے کو فوجیوں کے مزید دستے بحرین میں داخل کردیئے ہيں جن کا مقصد انقلابیوں کا مقابلہ کرنا ہے اور وہ میدان شہداء میں تعینات ہوگئے ہيں جبکہ عوام ہر قیمت پر میدان شہداء تک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس ارادے نے انقلابی عوام کے عزم کو دو چند کردیا ہے۔ انھوں نے کہا: عرب ممالک نے ایک طرف سے بحرین کے واقعات کا ابلاغی بائیکاٹ کررکھا ہے اور دوسری طرف سے آل سعود جیسوں سے وابستہ تشیہیراتی ادارے بحرین کے حقائق کو الٹ پلٹ کر پیش کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110