20 ستمبر 2011 - 19:30

گزشتہ دنوں پچاس سے ساٹھ زائرین بس میں ایران جارہے تھے کے مستونگ کے قریب لک پاس روڈ پرزائرین کی بس کو ایک پک اپ گاڑی جس کا نمبر جے بی 5458 تھا جس میں لشکر جھنگوی کے آٹھ سے دس دہشتگرد سوار تھے.

ابنا: لشکر جھنگوی کے مسلح دہشتگرد کلاشنکوف اور راکٹ لانچر سے لیس تھے دہشتگردوں نےتمام زائرین کو ایک صف پر کھڑا کرکے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 26 زائرین شہید ہوگے تھے،

آج اُن شہداہ کو آہ و بکا اور آنسو کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا، اس دوران کافی افسوس کُن مناظر دیکھنے میں آئے، کوئی بچہ اپنے باپ کی میت دیے ہوئے تھے،تو کوئی باپ اپنے جوان بچے کو قبر میں اُتار رہا تھا، کچھ بچے تو بلکل خاموش تھے وہ اتنے کمسن تھے کے اُنھیں معلوم ہی نہیں کے اُن سے ظالموں نے اُس کا باپ چھین لیا ہے، مگر دل کافی مطمئن تھا کیونکہ جس قوم کا وارث علی ہوں، وہ قوم لاوارث نہیں،

مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے، کے کوئٹہ کے قریب مستونگ میں زائرین کی بس پر فائرنگ ہوئی اور متعدد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، لیکن بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی دبئی میں اپنے نجی دورے میں اپنی دوسری زوجہ کے ساتھ مصروف ہیں۔ ۔ اصلی اورجعلی ڈگری میں فرق نہ رکھنے والے وزیر اعلیٰ شائد اب تک اس واقعے کو جعلی سمجھ رہے ہیں یاان کو اس واقعے کی خبرہی نہیں ہو پائی ہے۔ جو اب تک دبئی میں ہی قیام پزیر ہیں۔

شُہداہ کے نام1،غلام رضا2. محمد جان3. گل محمد4. گل شاہ​​5.دُر احمد6. محمد یار7. محمد جان8. نعمت اُللہ9. علی جان10. عبدُالنصیب11. محمد مہدی12. عزیز13. علی محمد14. محسن علی15. سید نعمت اللہ16. محمد کلیم17. علی محمد18 حمید19. اہصل20. محمد موسی  ............

/169