ابنا: ایم ڈبلیو ایم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے سانحہ القدس ریلی کے دوران زخمی ہونے والے 6 افراد کی بلاجواز گرفتاری پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے احتجاج کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا اور حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہو گی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا ہنگامی اجلاس مرکزی دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ عالی کے رکن علامہ اقبال بہشتی، شعبہ امور جوانان کے سیکرٹری علامہ اعجاز بہشتی، شعبہ فلاح و بہبود کے سیکرٹری نثار فیضی، پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری اور اسلام آباد کے ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ فخر علوی سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں کوئٹہ کی صوتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور سانحہ القدس ریلی کے دوران زخمی ہونے والے 6 افراد کی بلاجواز گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرے کے باوجود بلوچستان پولیس دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے اور اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے اسی المناک سانحہ کے متاثرین کو گرفتار کر رہی ہے، جو کسی بھی حوالے سے قرین انصاف نہیں ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ کوئٹہ میں پولیس نے سانحہ القدس کے دوران زخمی ہونے والے افراد کو بہانے سے بلایا اور انہیں گرفتار کر لیا جس سے پوری قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کو فی الفور رہا کیا جائے، بصورت دیگر مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے احتجاج کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا اور حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب ہمارا ملک سیلاب کی تباہ کاریوں اور ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں ہے اور کسی ہنگامہ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان پولیس ایک سازش کے تحت بے گناہ شیعہ افراد کو گرفتار کر کے قوم کے جذبات سے کھیل رہی ہے، اسے اپنے رویہ میں تبدیلی لانا ہوگی۔
.......
/169