ابنا: یمن کے ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح نے اپنے نائب عبد ربہ کو مامور کیا ہے کہ وہ اقتدار کی پر امن منتقلی سے متعلق خلیج فارس تعاون کونسل کی تجویز پر دستخط کرنے کے علاوہ اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی نگرانی میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار کرے۔ یمن کے ڈکٹیٹر نے ایسے عالم میں اپنے نائب کو مخالفین کےساتھ مذاکرات پر مامور کیا ہے کہ جب وہ سیاست سے عملی طور پر باہر ہوچکا ہے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر وہ معزول نہیں ہوا ہے لیکن صنعا میں صدارتی ہاؤس پر حملے کے دوران زخمی ہونے کے بعد تین ماہ سے علاج معالجے کے بہانے سعودی عرب میں رہائش کی وجہ سے عملی طور پر وہ ایک بھگوڑا ڈکٹیٹر بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ علی عبداللہ صالح نے اب تک اپنے نائب کو اقتدار منتقل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن یمن میں مظاہروں کے نۓ مرحلے اور علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کے لۓ اس پر دباؤ ڈالے جانے کے مقصد سے بنائی جانے والی ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل کے بعد اس نے اچانک خلیج فارس تعاون کونسل کی تجویز قبول کر لی ہے اور اپنے نائب کو مخالفین کے ساتھ مذاکرات پر مامور کردیا ہے۔ یمن کے انقلابیون نے علی عبداللہ صالح کے اس اقدام پر رد عمل ظاہر کرتے ہوۓ اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کی ڈکٹیٹر حکومت کے ساتھ کسی بھی طرح کے مذاکرات کا مطلب اس حکومت کو جواز فراہم کرنےکے مترادف ہے اور جو گروہ بھی اس حکومت کے ساتھ مذاکرات کرے گا وہ یمن کے انقلابیوں کا نمائندہ نہیں ہوگا۔ دریں اثناء یمن کے انقلابی جوانوں نے بھی سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے پتلے کو آگ لگا کر سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ عرب ممالک کی ہر طرح کی مداخلت ، ان کی جانب سے یمن کے ڈکٹیٹر کی حمایت کۓ جانے اور یمن کے عوامی انقلاب کو ناکام بنانے کی خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کی کوششوں کے شدید مخالف ہیں۔ یمن کے انقلابیوں نے اعلان کیا ہےکہ علی عبداللہ صالح اس تجویز کے ذریعے وقت حاصل کرنے کے درپے ہے ۔ یمن کی حکومت کے مخالفین کے ایک اعلی فوجی افسر میجر جنرل محسن الاحمر نے بھی کہا ہے کہ اپنی حکومت کو بچانے کی یمن کے ڈکٹیٹر کی کوشش لاحاصل ہے اور ہم ملک کی باگ ڈور دوبارہ علی عبداللہ صالح اور اس کے اقرباء کے ہاتھ میں جانے نہیں دیں گے۔ .............
/169