12 ستمبر 2011 - 19:30

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کی مجلس عاملہ کے سربراہ محمود جبرئیل نے کہا کہ آئندہ سات سے دنوں میں ملک میں ایک وسیع البنیاد قومی عبوری حکومت کا قیام عمل میں آجائے گا.

ابنا: انہوں نے زوردے کر کہا کہ اس عبوری حکومت میں لیبیا کی تمام سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو شامل کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں ان گروہوں کو بھی شامل کیا جائے گا جو ابھی محصور شہروں میں ہيں -لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے دارالحکومت طرابلس میں اپنے دفاتر منتقل کرنے کے تین ہفتوں کے بعد بھی ابھی تک قذافی حکومت سے غیروابستہ ایک آزاد لیبیا کا اعلان نہیں کیا ہے لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے جو قذافی کی سرنگونی کے بعد پہلی بار طرابلس پہنچے ہیں کہا ہے کہ جب تک لیبا کے تمام شہروں پر انقلابیوں کا کنٹرول نہيں ہوجاتا اس وقت تک لیبیا کی آزادی یقینی نہیں ہوسکتی - انقلابیوں کا کہنا ہے کہ سرت ، بنی ولید ، الجفرہ ، اور سبہا شہروں پر کنٹرول ہوجانے کے بعد مغربی لیبیا میں تیل کی پیداوار شروع ہوجائے گی یاد رہے کہ گذشتہ چھ مہینوں سے انقلابیوں اور قذافی کی وفادار فوجوں کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے لیبیا میں تیل کی پیداوار رک گئی ہے ایک ایسے وقت جب تیل کی فروخت ہی لیبیا کے عوام کی آمدنی کا واحد اہم ذریعہ ہے نیٹو کے ہوائی حملوں اور بمباریوں سے لیبیا کی اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔

اس درمیان قذافی حکومت کے آخری گڑھ کی جانب انقلابیوں کی پیشقدمی شروع ہوچکی ہے اس وقت جب انقلابی فورسز قذافی کے آبائی شہر سرت سے نوے کلومیٹر کے فاصلے پر مورچہ بند ہيں ایسا لگتا ہے کہ اب قذافی کا ایک اور اہم گڑھ بھی اس کے قبضے سے آزاد ہونےوالا ہے - دریں اثنا جب بنی ولید شہر میں قذافی کے زیر انتظام ریڈیو کے ذریعے عوا م سے کہا جارہا ہے کہ وہ انقلابیوں کا مقابلہ کریں اس سے گمان کو تقویت پہنچ رہی ہے کہ قذافی اسی شہر میں روپوش ہے ایک اور رپورٹ کے مطابق انقلابیوں نے بنی ولید شہر کے مغربی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے انقلابیوں کو یہ کامیابی ایسے وقت ملی ہے جب قذافی کی فوج نے انقلابیوں پر میزائیلوں اور مارٹربموں سے حملہ کیا ہے خبری ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ انقلابیوں نے بنی ولید شہر کے مغربی حصوں پر قبضہ کرلیا ہے یہ ایسی حالت میں ہے کہ قذافی کی وفادار فوج انقلابیوں کے سامنے مزاحمت کررہی ہے اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ انقلابیوں نے بنی ولید شہر میں قذافی کی فوج کے ساتھ ہونےوالی لڑائی میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کیا ہے ان لڑائیوں میں تین انقلابیوں کے مارے جانے کی بھی اطلاع ہے.

...............

/169