3 ستمبر 2011 - 19:30

بحرين کي آل خليفہ حکومت ملک کي آبادي کا تناسب خراب کرنے کے لئے پاکستان اور اردن کے شہريوں کو بحرين کي شہريت دے رہي ہےـ

ابنا: بحرين کي حکومت ايک طرف يہ اشتعال انگيز اقدام کر رہي ہے اور دوسري طرف ملک کے شيعہ مسلمانوں کي شہريت منسوخ کرنے کي کوشش ميں ہےـ اہم ترين نکتہ يہ ہے کہ جن افراد کو بحرين کي شہريت دي جا رہي ہے وہ پاکستان کي ريٹائرڈ فوجي ہيں اور انہيں بڑے عہدوں کا لالچ ديکر بحرين لے جايا گيا ہےـ

پاکستان نے بحرين کے اس اقدام کا خير مقدم کيا ہےـ پاکستان کي فوج نے سعودي عرب اور امريکہ سے مشاورت کے بعد بحرين ميں عوامي انقلاب کو کچلنے کے لئے اپنے اہلکار بحرين بھيجنے پر رضامندي ظاہر کي ہےـ

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستاني فوج نے ہرفوجي کے عوض دس ہزار ڈالر لئے اور تين سو فوجي بحرين کے حوالے کئے ہيں جو سعودي عرب کے فوجيوں کے ساتھ مل کر بحريني عوام کي سرکوبي کر رہے ہيں ـ ان فوجيوں کے بحرين پہنچتے ہي حکومت نے انہيں شہريت دے دي ـ

بحرين کي حکومت برسوں سے ملک ميں امتيازي پاليسيوں پر عمل کر رہي ہے جس کے تحت اس نے ملک  کے  شيعہ مسلمانوں کو حساس اداروں سے دور رکھا ہےـ اس کے باوجود اس وقت ملک کے شيعہ اور سني سبھي حکومت کے خلاف تحريک چلا رہے ہيں ـ حکومت نے عوامي اعتراض کو دبانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کي ـ

دوسري جانب شيعہ مسلمانوں کے مذہبي رہنما شيخ عيسي قاسم نے کہا ہے کہ آل خليفہ حکومت کي جانب سے جاري سرکوبي عبث ہےـ

انہوں نے حکومت کے اشتعال انگيز اقدامات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ حکومت آگ سے کھيلنے کي کوشش کر رہي ہےـ

شيخ عيسي قاسم نے منامہ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سياسي قيديوں کي رہائي اور سياسي اصلاحات، ملک کے موجودہ بحران کا واحد حل ہے-.............

/169