19 مارچ 2011 - 20:30

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کی سیاسی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن عبدالسلام عربی نے کہا ہے کہ طرابلس پر کنٹرول کے بعد بیس ہزار قیدیوں کو آزاد کردیا گيا ہے۔

ابنا: عبدالسلام عربی نے جمعہ کے روز العالم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انقلابیوں نے دارالحکومت طرابلس میں واقع بوسلیم جیل سے سترہ فروری سے اب تک گرفتار ہونے والے تمام قیدیوں کو آزاد کردیا ہے۔

انہوں نے انقلابیوں کو ملنے والی کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قذافی کے بغیر لیبیا کا مستقبل تابناک ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کو گزشتہ بیالیس برسوں کے دوران تمام شعبوں میں پسماندگی کے سبب مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اب ہماری پالیسی ملک کے عوام کی خدمت کی پالیسی ہوگی۔

عبدالسلام عربی نے کہا کہ لیبیا مستقبل میں کسی بھی ملک یا طاقت پر انحصار نہیں کرے گا اور عبوری کونسل عوام کی خواہشات اور آزادی و خود مختاری کو اہمیت دیتی ہے۔

ادھر ایک تازہ اطلاع کے مطابق چھے بلٹ پروف گاڑیوں کا قافلہ کہ جن میں ممکنہ طور پر لیبیا کے اعلی حکام حتی خود معمر قذافی سوارتھا، لیبیا سے الجزائر میں داخل ہوا ہے۔

الجزائر کی سرحد کے قریب واقع قدامس شہر میں قذافی حکومت کے مخالفین کی فوجی کونسل کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ چھ بلٹ پروف مرسڈیز گاڑیاں جمعہ کے روز اس شہر میں داخل ہوئيں۔

اس ذریعے نے مزید کہا کہ لیبیا کے صدارتی گارڈز کے ایک دستے نے ان گاڑیوں کو الجزائر کی سرزمین تک پہنچایا اور انقلابی وسائل اور ہتھیار کم ہونے کی بنا پر اس قافلے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اسی ذریعے نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر ان گاڑیوں میں لیبیا کے اعلی حکام ، قذافی اور اس کے بیٹے سوار تھے۔

الجزائر اور لیبیا کے ذرائع نے ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

یاد رہے جب سے انقلابیوں نے طرابلس پر کنٹرول حاصل کیا ہے تب سے معمر قذافی لاپتہ ہے۔

الجزائر کی وزارت خارجہ کے ترجمان عمار بلانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک لیبیا کے داخلی امور میں مداخلت کو رد کرتا ہے اور وہ وہاں کے واقعات کے بارے میں مکمل طور پر غیرجانبدار ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لیبیا میں قیام امن کے لیے وہاں بین الاقوامی پولیس کی تعیناتی پر زور دیا ہے۔

ادھر لیبیا کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1973 کی بنیاد پر لیبیا کے امور میں کی جانے والی یورپی ممالک کی براہ راست مداخلت پر ماہرین اور مقامی سیاستدانوں کو خدشات لاحق ہوگئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لیبیا کے عوامی انقلاب کو ہائی جیک کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی اس ملک میں اپنے فوجی تعینات کرکے اور اس ملک کے قدرتی ذخائر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔

دریں اثناء نیٹو کے سیکرٹری جنرل فوگ راسموسن نے ایک بیان میں کہا ہےکہ نیٹو نے لیبیا میں فوجی آپریشن کی کمانڈ مکمل طور پر سنبھال لی ہے اور ان کا مقصد قذافی کو فوجوں سے شہریوں کو بچانا ہے۔ جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد نیٹو لیبیا کے شہروں پر بمباری کرنے کے علاوہ اس ملک میں اپنے فوجی بھی تعینات کرسکتی ہے۔

یہ وہ مسئلہ کہ جس پر لیبیا کے عوام نئی انقلابی قیادت کو مکمل توجہ دینی چاہیے اس لئے کہ اگر انقلابی قیادت مغرب کے جھانسے میں آگئی تو ڈکٹیٹر قذافی کی انانیت کی بھینٹ چڑھنے والے شہدا کا خون رائگان جائے گآ۔ 

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق لیبیا میں انقلابی تحریک شروع ہونے کے بعد سے اب تک چھ ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ قذافی اور اس کے خاندان نے 42 سالہ تسلط کے عوام کے خلاف بے پناہ مظلم ڈھائے اور اب ان کے جواب دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔

 28 جون کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے لیبیا کے ڈکٹیٹر معمر قذافی، اس کے بیٹے سیف الاسلام ، لیبیا کے خفیہ ادارے کے سربراہ عبداللہ السنوسی اور قذافی کے ساتھی 80 کے قریب اعلی افسران اور کمانڈروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔ ان افراد پر لیبیا میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام ہے۔

یہ الزامات ایک ایسے وقت میں لگائے گئے ہیں کہ جب مئی کے مہینے میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے اٹارنی جنرل لوئیس مورینو اوکامپو نے پہلی مرتبہ قذافی اور اس کے کچھ ساتھیوں پر ایسے ہی الزامات لگائے تھے اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن اس کے بعد بھی قذافی کے جرائم کا سلسلہ اتنا بڑھا کہ بین الاقوامی عدالت کو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا پڑے۔

اب دیکھنا یہ کہ قذافی کب پنجہ عدالت میں آتا ہے اور مصر کے ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی طرح پنجرے میں بند عوامی انقلابی عدالت میں پیش ہوتا ہے یا بین الاقوامی عدالت میں۔

اگرچہ قذافی کو بچانے والے بھی کم نہیں ہیں اور جس طرح وہ زین العابدین بن علی کوبچا کر لے گئے، حسنی مبارک کو بچانے کی کوشش کی، یمن کے ڈکٹیٹر کو تحفظ فراہم کیا اسی طرح وہ چاہتے ہیں کہ قذافی اور اس کا خاندان بھی محفوظ رہے، البتہ اس سلسلے میں اس بار سعودی عرب کی جگہ الجزائر کا نام سننے میں آرہا ہے۔

علاقے کی اسلامی بیداری کی تحریکوں کے تعلق سے سعودی عرب کے شاہی خاندان کا کردار انتہائی گھناؤنا اور مشکوک رہا ہے شام کے معاملے میں تو آل سعود نے امریکہ اور صہیونی ریاست کا ساتھ دیا اور دیگر مقامات پر مغرب نواز ڈکٹیٹروں کو بچانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110