21 اگست 2011 - 19:30

ذاکرین کی نمائندہ تنظیم حزب الحسین کے جنرل سیکرٹری علامہ محمد کاظم نجفی نے کہا ہے کہ عزاداری سید الشہداء وحدت کے پیغام کو عام کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ منبر سے ہمیشہ وحدت اور اخوت کی بات جائے اور اختلافات کو ہوا دینے گریز کیا جائے۔بانیان مجالس اور عزاداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عزاداری کے پلیٹ فارم سے اٹھنے والی ہر وہ آواز خاموش کر دیںجس سے اختلافات پھیلنے کا اندیشہ ہو۔

ابنا: انہوں نے ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی دفتر میں میڈیا ٹیم کے اراکین سے بات چیت کے دوران کیا ، انہوں نے کہا کہ اس وقت اتحاد بین المسلمین کے ساتھ ساتھ اتحاد بین المومنین پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ملت جعفریہ عمومی طور پر گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور تقسیم در تقسیم کا یہ عمل جاری ہے جس کا راستہ روکنا بے حد ضروری ہے ، علامہ کاظم نجفی نے کہا کہ ملت اسلامیہ کو وحدت کی لڑی میں پرونے کے لیے مجلس دحدت مسلمین پاکستان کلیدی کردار ادا کررہی ہے ، اگر اس پلیٹ فارم سے ذاکرین کرام ، بانیان مجالس ، اور ماتمی تنظیموں کی مشترکہ کانفرنسیں منعقد کی جائیں تو ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں وحدت کے فروغ کے لیے ذاکرین ، بانیان مجالس اور ماتمی انجمنوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ذاکرین کی نمائندہ تنظیم حزب الحسین کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ حسینی منبر سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا راستہ روکا جائے اور مومنین کو عزادای سید الشہداء کے حقیقی مفہوم سے آشنا کیا جائے ، منبر پر کوئی ایسی بات کی جائے جس سے بد گمانی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ، ہمارا مقصد عزاداری کا فروغ ہے ، حزب الحسین کے پلیٹ فارم سے چنیوٹ ، فیصل آباد اور لیہ کے ان دور افتادہ علاقوں میںمجالس کا اہتمام کیا گیا جہاں لوگ عزاداری کے نام سے ہی نا آشنا تھے ، انہوں نے بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین اور حزب ا لحسین کے نظریات ایک ہیں ، حزب الحسین کے سرپرست اعلی بزرگ ذاکر سید صابر حسین شاہ بہل ہیں ۔ علامہ کاظم نجفی نے کہا کہ نوجوان ملک وقوم کے درخشاں مستقبل کی ضمانت ہیں ، انہیں عزادار ی کے اصل مقاصد اور حقیقی مفہوم سے آشنا کرنا ضروری ہے ، انہوں جوانوں کو پیغام دیا کہ اپنے اندر قوت ایمانی پیدا کریں ، عزادر ی کے ساتھ ساتھ اعمال دین کی بجا آوری پر بھی توجہ دیں، مجلس کے لیے امام بارگاہوں کو آباد کرنے کے ساتھ ساتھ مساجد میں بھی حاضری یقینی بنائیں ، ماتم کریں تو روزے کی اہمیت سے بھی انکار نہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین شیعہ یا سنی کا نہیں، پوری ملت اسلامیہ کا اجتماعی مسئلہ ہے اس لیے ہمیں القدس ریلی میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ شریک ہونا چاہیے۔ انہوں نے محصورین پارا چنار کی امداد کے مجلس وحدت مسلمین کے کردار کوسراہتے ہوئے ملت اسلامیہ سے اپیل کی پارا چنار کے مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کر اخلاقی ، قومی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کی جائیں.

............

/169