18 اگست 2011 - 19:30

انیس اگست انیس سو چون کو امریکہ اور برطانیہ نے مل کر ایک سازش کے ذریعے ایران میں ڈاکٹر محمد مصدق کی قومی حکومت کا تختہ الٹ دیا کہ جس نے ایران کی تیل کی صنعت کو برطانوی حکومت کی لوٹ مار سے بچایا اور اسے قومی تحویل میں لینے کا اعلان کیا۔

ابنا: ایران میں قومی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد استعمار نے محمد رضا شاہ پہلوی کو کہ جو ایران سے بھاگ چکا تھا ، ایک بار پھر مسند اقتدار پر بٹھا دیا۔ انیس اگست انیس سو چون کی بغاوت ایران کی معاصر تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے کہ جو ایران کی قومی حکومت کے خاتمے اور استبدادی شاہی حکومت کے دوام کا باعث بنی۔
اس دن جنرل فضل اللہ زاہدی کی کمان میں فوجیوں نے زرخرید ایجنٹوں اور بدمعاشوں کے ذریعے تہران کی سڑکوں پر قبضہ کر لیا اور پورے شہر میں خوف و دہشت کی فضا پیدا کر دی۔
مصدق حکومت کے خلاف بغاوت اس وقت ممکن ہوئی کہ جب امریکی حکومت نے آژاکس آپریشن کے ذریعے ایران میں گڑبڑ پھیلائي اور مصدق حکومت کے خاتمے کا راستہ ہموار کیا۔
سی آئی اے کی منظرعام پر آنے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت بغاوت کی ناکامی کے بارے میں کس حد تک پریشان تھی اور اس نے ایران کی قومی حکومت کی سرنگونی کے لیے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
سی آئی اے نے ایران میں بغاوت کو کئي دہائياں گزرنے کے بعد جو دستاویزات شا‏ئع کی ہیں ، ان کے مطابق امریکی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر ایران میں مصدق حکومت کے خلاف بغاوت ناکام ہو جاتی ہے تو ایران میں ایک طویل چھاپہ مار جنگ شروع کر دی جائے۔
تہران پر باغیوں کے قبضے کے بعد اوباشوں اور بدمعاشوں نے حریت پسندوں کی دوکانوں تجارتی مراکز اور اداروں کو نذرآتش کر دیا۔ مفرور شاہ روم سے ایران واپس آیا اور ایران میں ایک جمہوری حکومت کی جگہ استبدادی شاہی حکومت قائم ہو گئي۔ پٹھو شاہ کے ذریعے استعمار کا سیاسی و اقتصادی نفوذ بھی ملت ایران کے اسلامی انقلاب تک جاری رہا اور ایران کا قومی تحویل میں لیا گيا تیل ایک بار پھر داد کنسورشیم کے نام سے استعمار پسندوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔
چونکہ یہ بغاوت دو غیرملکی حکومتوں برطانیہ اور امریکہ کی مداخلت سے انجام پائی تھی اس لیے ایرانی عوام نے ہمیشہ ان دونوں استعماری حکومتوں سے باضابطہ معافی مانگنے اور پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے داخلی امور میں امریکہ نے نصف صدی سے زائد کے عرصے میں دسیوں بار مداخلت کی ہے اور انیس سو چون کی بغاوت اس کا صرف ایک نمونہ ہے اور یہی مداخلتیں امریکہ اور ایرانی قوم کے درمیان عدم اعتمادی کی دیوار قائم ہونے کا باعث بنی ہیں۔
............

/169