16 اگست 2011 - 19:30

امین شہیدی نے کہا: غربت اور بے روزگاری ہر معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہے، اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام، جہالت، اور بیراہ روی نے بھی انسانیت کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے،طاقت کے حصول کے لیے ہونے والی جنگیں، انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، ان تمام مسائل سے نکلنے کا بہترین راستہ نظام اسلامی ہے / علامہ سیدمحمدجواد ہادی نےکہا: ماہ صیام اللہ تعالی کی بندگی اور غربت زدہ انسانوں کی طرف توجہ کا مہینہ اور روزہ ایک تربیتی پروگرام ہے/ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃالوداع کو یوم القدس کا عنوان دے کر تمام مسلمانوں کو قبلۂ اول اور مظلوم فلسطینیوں کی جانب متوجہ کیا / مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا کسی مذہبی جماعت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، دہشت گرد اسٹیبلشمنٹ کی پیدا وار ہیں اور ان کا مقصد مذہبی جماعتوں کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی کے زیر اہتمام اسلام آباد ہالی ڈے ان ہوٹل میں،انسانیت کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا. ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ہر معاشرے میں انسان کو درپیش مشکلات کی نوعیت مختلف ہے لیکن غربت اور بے روزگاری ہر معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہے، اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام، جہالت ، علم سے دوری، بے راہ روی اوراخلاقی برائیوں نے بھی انسانیت کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے،طاقت کے حصول کے لیے شروع ہونے والی جنگیں انسانی مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں جبکہ جنسی آزادی اور بے راہ روی پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، ان مشکلات اور مسائل سے نکلنے  کا بہترین راستہ نظام اسلام ہے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی کے زیر اہتمام اسلام آباد ہالی ڈے ان ہوٹل میں، انسانیت کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا. اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شورائے نظارت کے رکن علامہ سید محمد جواد ہادی، ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل کے انچارج مولانا عابد حسین بہشتی اور معاون شعبہ سیاسیات سید اعجاز حسین رضوی بھی موجود تھے ۔ انھوں نے کہا کہ انسان بدن اور روح کا مرکب ہے اگر انسان سے روح انسانیت نکل جائے تو وہ انسانی اقدار یعنی عدل و انصاف کی مخالفت کرے گا اور ظلم و زیادتی پر اتر آئے گا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے پروردگار سے دور ہونے والے انسان کو واپس اپنے پروردگار کی جانب لوٹایا جائے اور انسان کو اپنے رب سے مربوط کرنے کا بہترین راستہ نظام اسلامی ہے کیونکہ اسلام کی پناہ میں آنے کے بعد فکری انتشار خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے بدن کی نشوونما اور تزئیں و آرائش کے متعلق تو سوچتا ہے لیکن کبھی اپنی روح کی جانب متوجہ نہیں ہوا، انسانیت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے روح پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سیمینار کے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کی شورائے نظارت کے رکن علامہ سید محمد جواد ہادی نے کہا کہ ماہ صیام انتہائی متبرک اور اہم مہینہ ہے۔ ان مقدس ایام میں جہاں اللہ تعالی کی اطاعت اور بندگی کی جاتی ہے وہاں انسان کے اندر ان افراد کی بھوک اور پیاس کا تصور بھی ابھرتا ہے جو غربت اور تنگدستی کے سبب فاقے کرنے پر مجبور ہیں، اس لیے روزہ صرف ایک فرض ہی نہیں بلکہ ایک تربیتی پروگرام بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم معاشرے کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود ماہ صیام کے دوران مسلمانوں میں خاص تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں: مثلاًجرائم کی شرح کم ہو جاتی ہے، دیگر مہینوں کی نسبت انسانی ہمدردی کا جذبہ بڑھ جاتا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اس ماہ ماہ مقدس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے دکھ درد کے مداوا کے لیے مہم چلاتے۔ انھوں نے کہا: اسلام یقینا انسان کی فلاح اور سعادت کے لیے آیا ہے ہمیں خود کو اسلامی حوالے سے سیمیناروں کے انعقاد تک محدود کرنے کی بجائے عملی اقدامات اٹھانے چاہییں، آپس میں دست و گریبان ہونے کی بجائے انسانی فلاح کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اسلام ہمیں انسانیت کی عزت و احترام سکھاتا ہے۔ علامہ سید محمد جواد ہادی نے کہا کہ میرا اہل یورپ سے سوال ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف یورپ کے انسانوں کے لیے ہیں، کیا فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان کے انسانوں کے کوئی حقوق نہیں؟انھوں نے کہا کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے جمعۃالوداع کو یوم القدس کا عنوان دے کر تمام مسلمانوں کو قبلۂ اول اور مظلوم فلسطینیوں کی جانب متوجہ کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسلای نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ جب تک انسان دوسروں کی خیر خواہی نہیں کرے گا دوسرے بھی اس کے خیرخواہ نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جہالت کا اعلاج تعلیم ہے ڈنڈے کے زور پر دھمکی دے کر جہالت ختم نہیں کی جا سکتی لیکن اگر بنیاد خیر خواہی ہو تو اپریشن کی چھری بھی بھلی معلوم ہوتی ہے، اگر دعوت کے عمل میں خیر خواہی کا جذبہ ہو تو دلیل کے ساتھ اچھائی اور برائی کا فرق واضح کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جمیعیت علامائے اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ1973 کا آئین اسلامی ہے لیکن اس کی اسلامی شقوں پر صحیح معنوں میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا، تاکہ ملک کا اسلامی تشخص واضح نہ ہو سکے، ستم ظریفی یہ ہے کہ کہ پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کی جانے والی قرار دادوں پر عمل درآمد بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا کسی مذہبی جماعت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، دہشت گرد اسٹیبلشمنٹ کی پیدا وار ہیں اور ان کا مقصد مذہبی جماعتوں کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔انھوں نے کہا کہ تمام مذہبی جماعتوں بشمول دیوبندیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ملک میں کسی بھی سطح پر مسلح دہشت گردی حرام ہے اور دہشت کسی رو رعایت کے مستحق نہیں، لہٰذ اب مسئلہ مکمل طور پر واضح ہو چکا ہے اس لیے طے شدہ دستور کو نافذ عمل کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110 - 169

اہم کاوش:

امام حسن علیہ السلام اور افسانۂ طلاق‏ / تحقیقی مقالہ