ابنا: ایسے میں ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتیں ہی کیا کم تھیں کہ بھتہ مافیا کی جانب فائرنگ اوردستی بم حملوں نے صاحب حیثیت شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کونئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔شہر میں ایک ہفتے کے دوران مبینہ طور پر بھتہ نہ ملنے پر دستی بموں کے چار حملے کئے گئے۔جوں جوں عید قریب آرہی ہے کراچی میں ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی میں ایک گھر میں مزدوروں کے بھیس میں گھسنے والے ملزمان نے اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا۔ شور مچانے پر ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں جواں سال وقاص جاں بحق جبکہ اس کی والدہ اور بہن زخمی ہوگئیں۔ اورنگی ٹاوٴن میں کٹی پہاڑی کے قریب روٹ نمبر ڈبلیو 22کی منی بس میں لوٹ مار کے دوران ڈاکووٴں نے فائرنگ کر کے دو مسافروں کو زخمی کردیا۔ گلشن اقبال میں حسن اسکوائر اور عیسیٰ نگری کے درمیان چار مسلح ملزمان نے بلال کوچ اور روٹ نمبر ڈی ون کی منی بس کے مسافروں کو لوٹ لیا ملزمان کی فائرنگ سے دو مسافر زخمی ہوگئے۔گارڈن ایسٹ میں بھتہ نہ دینے پرمبینہ طورپرایک گودام پر دستی بم سے حملہ کیاگیا، جس سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ .............
/169