ابنا: فروری کےمہینےمیں آل خلیفہ کی آمریت کےمخالف اٹھارہ اراکین پارلیمنٹ نےبحرینی مظاہرین کےقتل عام اور مظاہرین کی سرکوبی پراحتجاج کرتےہوئےاپنی رکنیت سےاستعفی دےدیاتھا۔پہلےبارہ اراکین پارلیمنٹ نےاستعفی دیا اورپھرمزیدگیارہ اراکین پارلیمنٹ کےاستعفےکےاصرارپران کااستعفی بھی منظورکرلیاگیا۔ان استعفوں کی بناپرپارلیمنٹ کی چالیس نشستوں میں سےاٹھارہ نشستیں خالی ہوگئيں اورآل خلیفہ حکومت نےاعلان کیاکہ ان نشستوں کوپرکرنےکےلئےستمبرکےمہینےمیں انتخابات کرائيں جائيں گے۔آل خلیفہ نےوسط مدتی پارلیمانی انتخابات کرانےکامقصد قومی ثمرات کاتحفظ، اصلاحات کوآگےبڑھانااورڈیموکریٹک زندگی کواس کےصحیح راستےپرلانااعلان کیاہے۔ان مقاصد کااعلان ایسےعالم میں کیاگیاہےکہ ابھی گرفتاری، تشدد، تعلیم میں رکاوٹ، اورلوگوں کوجلاوطن کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔ بحرینی ملازمین کوان کی نوکریوں سےنکالنےکاسلسلہ بھی روزبروز بڑھتاجارہاہے۔اس بنا پراس وقت ایسےعالم میں جب پارلیمنٹ کےوسط مدتی انتخاباب کاوقت نزدیک آرہاہے، سیاسی ماہرین، چودہ فروری تحریک کےجوان اور بحرین کی دوسری سیاسی پارٹیوں کاخیال ہےکہ یہ انتخابات ڈرامےسےزیادہ کچہ نہيں ہوں گے۔ ان کاخیال ہےکہ ایسےعالم میں جب آل خلیفہ کی آمرحکومت عوام کےمطالبات اورملک میں موجود بحران کےحل کی جانب کوئی توجہ نہيں دےرہی ہے،وسط مدتی انتخابات کرانے کاڈرامہ،عوام کوپس پشت ڈالنےکےلئےتیارکیاگیاہے۔ آل خلیفہ حکومت وسط مدتی انتخابات کراکےاپنی کھوئی ہوئی قانونی حیثیت کوبحال کرنےکی کوشش کررہی ہے۔یہ انتخابات آئندہ ستمبرمیں ایسےعالم میں ہونےوالےہیں کہ جب سب سےبڑی مخالف پارٹی وفاق اسلامی اورحزب وعد سمیت حکومت مخالف پارٹیوں نےوسط مدتی انتخابات کابائیکاٹ کررکھاہے۔ ان پارٹیوں کےاراکین کاخیال ہےکہ انتخابات میں شرکت اورتمام اٹھارہ نشستوں پرکامیابی کی صورت میں بھی تقسیم اقتدارپرکوئی اثرنہيں پڑےگاکیونکہ بحرینی پارلیمنٹ ایک نمائشی پارلمینٹ ہےاورملک کاانتظام چلانےمیں اس کاکوئی کردارنہيں ہے۔بحرینی پارلیمنٹ، سینٹ اور اسمبلی سےتشکیل پائی ہے۔ بحرینی اسمبلی کےاراکین عوام کےبراہ راست ووٹوں سےمنتخب ہوتےہیں لیکن سینٹ کےممبران کوخودبادشاہ منصوب کرتاہے۔پہلےپارلیمانی الیکشن دوہزاردو میں اورآخری الیکشن دوہزاردس میں ہواتھا۔ ............
/169