13 اگست 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے صہیونی ریاست کے ممکنہ حملے کا جواب نہایت شدید ہوگا۔

ابنا: صدر احمدی نژاد نے سنیچر کی رات کو رشیا ٹوڈے ٹی وی چینل سے انٹرویو میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج نہ صرف علاقے کی قومیں بلکہ ساری دنیا کے لوگ دنیا پر حاکم غیرمنصفانہ صورتحال سے نالاں ہیں ۔ انہوں نے کہا طبقاتی فاصلے، جنگ اور تصادم اور یہ کہ بہت سی قوموں کی تسلط پسندوں کے ہاتھوں تحقیر ہوتی رہتی ہے ایک تشویش ناک اور پریشان کن امر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیبیاسمیت مختلف ملکوں میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت بھی تشویش کا باعث ہے۔
صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران کے اطراف اور علاقے میں امریکہ برطانیہ اور نیٹو کی افواج بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا جن لوگوں نے بحرین میں فوجیں لگا رکھی ہیں اور ہمیشہ علاقے کے ملکوں کے امور میں مداخلت کرتے رہتے ہیں وہی ایران پر ا لزام لگا رہے ہیں کہ ایران دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت کر رہا ہے۔
صدر جناب احمدی نژاد نےایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کہا کہ ایران اس بات کا مخالف ہے کہ دنیا میں کسی کے پاس بھی ایٹمی ہتھیار موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے موجودہ ہتھیاروں کو نابود کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صہیونی ریاست کے ممکنہ حملے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کی یہ تمنا ہے کہ وہ ایران پرحملہ کرسکے لیکن اسے ایران کی طاقت کا بھی اندازہ ہے اور جانتی ہے کہ ملت ایران کا جواب نہایت شدید ہوگا۔
صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ صیہونی حکومت کو مغربی مفادات کی فراہمی اور دوسروں کو ڈرانے دھمکانے نیز جارحیت کی غرض سے قائم کیا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی بقا جارحیت ، قبضے، دہشتگردی اور قتل عام میں ہے اور اس حکومت نےگذشتہ ساٹھ برسوں سے یہی روشیں اپنا رکھی ہیں لیکن بہرحال صہیونی ریاست کو ملت ایران کی تاریخي طاقت کا بھی علم ہے۔
..............

/169