اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عوام کا مظلومانہ قیام ساتویں مہینے میں داخل ہوگیا ہے اور صورت حال کچھ یوں ہے کہ عوام کا عزم ہر روز پختہ اور پختہ تر ہورہا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ بہتر انداز سے اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خلیفی ـ سعودی جبر و تشدد روزمرہ معمولات کا حصہ بن گیا ہے اور جس بات نے خلیفی ـ سعودی خاندانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے وہ یہ ہے کہ اب بحرینی عوام موت سے نہیں ڈرتے، تشدد سے خائف نہیں ہوتے، دھمکیوں سے گھروں میں نہیں دبکتے، بے روزگار ہونے سے خلیفیوں کے قصیدے پڑھنا شروع نہیں کرتے، وہ خوف کی دیواریں پھاند گئے ہیں اور ان کے دشمنوں کے خوف میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بحرینی عوام نے ثابت کردیا ہے کہ پر امن احتجاج کا کوئی جواب نہیں ہے اور دنیا کی کوئی بھی فوج پرامن عوام اور غیر مسلح عوام کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ لوگوں کی شجاعت بمعۂ کیاست دیدنی ہے وہ میدان اللؤلؤہ کی طرف لوٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ فتح آخرکار ان ہی کی ہے گو کہ خلیفی حکمران اب بھی امریکی – سعودی معجزے کی امید لے کر بیٹھے ہیں۔عوامی مظاہروں پر خلیفیوں کی فائرنگحکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ شب جمعہ کے مظاہروں پر خلیفی ـ سعودی جلادوں نے فائرنگ کردی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔شب جمعہ کے مظاہرے دارالحکومت منامہ کی سڑکوں اور سترہ شہر میں ہوئے اور مظاہرین نے آل خلیفہ حکومت کے خاتمے کے حق میں نعرے لگائے۔ خلیفی ـ سعودی فورسز نے سترہ میں مظاہرین پر فائرنگ کی اور آنسو گیس شیل پھینکے اور اس شہر کی بجلی منقطع کردی۔مظاہرین نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ خلیفی حکومت کے خاتمے کے لئے اپنے بے امان احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے حتی کہ ان کے ملک میں ایک منتخب حکومت برسر اقتدار آئے۔ بحرین کے مرکز کی جانب لوٹنے کے لئے مظاہرے
عوامی کانگریس برائے حمایت بحرینی عوام کے رکن قاسم الہاشمی نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کے مظاہروں سے ثابت ہوا کہ عوامی احتجاج کا سلسلہ دارالحکومت منامہ کے مرکز میں واقع میدان اللؤلؤہ کی جانب لوٹ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کا عوام نے جمعرات اور جمعہ کے روز مذکورہ میدان کے قریب – جو اب میدان شہداء کہلاتا ہے _ کے قریب ہی مظاہرے کئے؛ جمعرات کے روز کے مظاہرے "مقدرات کا تعین 7" کے عنوان سے ہوئے جبکہ جمعہ کے روز عوامی احتجاج "ہم پسپا نہیں ہونگے" کے تحت انجام پایا اور خلیفی حکومت کو ان مظاہروں کا پیغام بہت واضح تھا اور وہ یہ کہ عوام بہرصورت میدان شہداء میں لوٹیں گے اور اسی مقام پر اپنے مطالبات جاری رکھیں گے جہاں سے عوامی انقلاب کا آغاز ہوا تھا۔ انھوں نے کہا: ہم ہر روز میدان سے قریب اور قریب تر ہورہے ہيں کیونکہ یہ میدان ہمارے انقلاب کی علامت اور عوامی اتحاد کی نشانی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم میدان شہداء کو اسی شکل میں دوبارہ تعمیر کریں گے تا کہ وہ بحرین کے انقلاب کی علامت کے طور پر باقی رہے۔انھوں نے بدھ کے روز ہونے والے مظاہروں کے بارے میں کہا کہ اس روز خلیفی ـ سعودی فورسز نے الغریہ اور الدیر کے علاقوں میں مظاہرین کو اندھادھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
خلیفی جبر اور مزدوروں کی بیدخلی کا سلسلہ جاریعینی شاہدین نے کہا کہ جمعرات کے دن خلیفی ـ سعودی فورسز نے میدان شہداء (سابقہ پرل اسکوائر) کو جانے والے تمام راستے بند کرديئے تھے اور منامہ کے مختلف علاقوں ميں ہونے والے مظاہروں پر حملے گئے۔ اس اطلاع کے مطابق خلیفی ـ سعودی فورسز نے بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے ذریعے میدان شہداء کا محاصرہ کررکھا تھا۔ دریں اثناء ابنا کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق بحرینی مزدوروں اور ملازمین کی بیدخلی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور خلیفی حکمران اس سلسلے میں تمام بین الاقوامی قوانین اور عالمی برادری کو ديئے گئے تمام وعدے پامال کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں مزدور ابھی تک کام سے نکالے جاچکے ہیں اور 420 مزید مزدوروں کے بارے میں تفتیش ہورہی ہے جن پر "الزام" لگایا گیا ہے کہ انھوں نے آل خلیفہ مخالف مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ خلیفی حکمرانوں نے کہا کہ مزدوروں کو اسی صورت میں بحال کیا جائے گا کہ وہ وہ ضمانت دیں کہ آل خلیفہ خاندان کی حکمرانی کے تحفظ کے لئے وضع شدہ قوانین کے پابند رہیں گے۔
خلیفی حکمران حکومت مخالف ڈاکٹروں کو بیدخل کررہی ہےخلیفی حکومت کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 23 ایسے ڈاکٹروں کو ملازمتوں سے برخاست کررہی ہے جنہوں نے عوامی مظاہروں کی حمایت کی تھی۔واضح رہے کہ خلیفی حکومت نے اب تک محکمۂ صحت کے سینکڑوں کارکنوں کو کام سے بے دخل کردیا ہے جن پر "الزام" تھا کہ "انھوں نے آل خلیفہ اور آل سعود کے جلادوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے مظاہرین کو علاج و معالجے کی سہولتیں فراہم کی تھیں"۔ سوال یہ ہے کہ کوئی تہذیب یافتہ حکومت ڈاکٹروں اور ادارہ صحت کے کارکنوں کو عوام کے علاج کی پاداش میں سزا دیتی ہے؟ جبکہ ان کی اصل ذمہ داری ہی دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے اور وہ اس کا حلف اٹھا کر اس محکمے میں مصروف عمل ہوجایا کرتے ہیں۔ بحرین کو حقیقی مذاکرات کی ضرورت ہے قومی ڈموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل، فاضل عباس نے کہا ہے کہ بحرین کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے "حقیقی مذاکرات" کے نئے منصوبے کی ضرورت ہو جو "درست معیاروں" پر مبنی ہو اور "اپوزیشن جماعتوں کے لئے بھی قابل قبول ہو"۔ فاضل عباس نے کہا: آل خلیفہ حکومت جبر و تشدد کے ذریعے 14 فروری کے انقلاب کو نہ کچل سکی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت تمام شعبوں میں بے بس ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کے حکمران خاندان کا انتہا پسند دھڑا (جو تا حیات وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان اور ان کے حامیوں پر مشتمل ہے) اب بھی عوامی مطالبات کو نظرانداز کرنے اور عوامی احتجاج کو غیر انسانی جبر سے کچلنے پر بضد ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ اس خاندان کا یہی دھڑا ہی تمام شعبوں پر مسلط ہے۔ انھوں نے کہا: مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے تاہم مذاکرات کا نیا دور درست معیاروں کے مطابق ہونا چاہئے اور مذاکرات کے نئے منصوبے کو اپوزیشن جماعتوں کے مشورے سے طے کرنا پڑے گآ۔بحرینی آل خلیفہ اور قطری آل ثانی کے درمیان ابلاغی جنگآل خلیفہ حکومت قطر پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ منامہ سے "جزیرہ حوار" کھودینے کا بدلہ لینا چـاہتا ہے جبکہ خلیج فارس کی ریاستوں کے گاڈ فادر "خاندان آل سعود" نے ان دو ریاستوں کے درمیان امن کے قیام کے لئے ماہ مبارک رمضان کے آخر میں مذاکرات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قطر کے نیوز چینل "الجزیرہ" نے حال ہی میں ایک پروگرام نشر کیا جس کو آل خلیفہ حکمرانوں نے بحرینی عوام کے احتجاج کے سلسلے میں اپنی پالیسیوں کے منافی قرار دیا اور یہیں سے دو خاندانوں کے درمیان ابلاغی جنگ کا آغاز ہوا۔بحرین پر مسلط آل خلیفہ حکمرانوں نے قطر کے حکمران خاندان آل ثانی پر بحرین کے حوالے سے بدنیتی الزام لگایا ہے اور کہا کہ قطر کی حکومت جزیرہ الحوار کے سلسلے میں عالمی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کررہا ہے۔ عالمی عدالت نے بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے بعد ان دو ریاستوں کے درمیان 50 سالہ تنازعے کا خاتمہ کرتے ہوئے مجمع الجزائر الحوار کو بحرین کا حصہ قرار دیا تھا۔ آل خلیفہ حکومت کے حامیوں نے حال ہی میں ایک قطری وزیر خارجہ "شیخ حمد بن جاسم آل ثاني" کا ایک صوتی ریکارڈ ڈھونڈ لیا ہے جس میں قطری وزیر خارجہ نے کہا ہے کا "قطر اس کے بعد خلیفی حکومت کے مخالفین کی میزبای کرے گا"۔ آل خلیفہ حکمرانوں کا زوال عنقریبآل خلیفہ کی سلطنت حتی امریکی حمایت اور سعودی قابضين کی موجودگی میں بھی، عوام کی وسیع فعالیت کے نتیجے میں اختتام پذیر ہورہی ہے۔ بحرینی سیاستدان "ہانی الریس" نے کہا ہے کہ انقلابیوں کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ یہ کہ استقامت سے کام لیتے ہوئے خلیفی حکومت کے جابرانہ اقدامات کا مقابلہ کیا جائے چنانچہ بحرین میں احتجاج کا یہ سلسلہ صرف ایک ہی صورت میں اختتام پذیر ہوگا اور وہ کہ مستبد، آمر اور مطلق العنان آل خلیفہ خاندان زوال پائے اور بحرین سے نکال باہر کیا جائے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی اور آل سعود خاندان کے انخلاء پر مبنی عوامی نعرے کبھی بھی اختتام پذیر نہ ہونگے اور مظاہرے ہر روز بحرین کے مختلف علاقوں میں منعقد ہونگے اور آل خلیفہ اور آل سعود کے تمام سیکورٹی اقدامات نظرانداز کئے جاتے رہیں گے اور سب سے اہم بات یہ کہ آل سعود اور آل خلیفہ کے جابرانہ اقدامات کا نقصان براہ راست ان ہی کو اٹھانا پڑے گا اور آج تک ان اقدامات کا نقصان ان ہی کے گلے پڑتا رہا ہے۔
خلیفی جرائم کی ڈاکومینٹریجمعیۃالوفاق الاسلامی نے انٹرنیٹ میں ایک ویب بیس قائم کرکے خلیفی حکومت ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کے سلسلے میں دستاویزات اکٹھی کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ بحرینی شہریوں سمیت بحرین میں مقیم منصف اور حریت پسند انسانوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ انسانی حقوق پر آل خلیفہ کے حملوں اور انسانیت کے خلاف اس کے جرائم پر مبنی رپورٹس، تصویریں، دستاویزات اور آنکھوں دیکھا حال اس ویب بیس میں روانہ کریں۔
احتجاج خلیفی آمریت کے خاتمے تک جاری رہے گاایک بحرینی سیاستدان نے زور دے کر کہا کہ آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی کے لئے سے شروع ہونے والی تحریک جاری رہے گی اسی بنا پر انقلابی قوتوں اور حکومت کر کرائے کی فورسز کے درمیان جھڑپیں ناگزیر ہیں۔بحرینی سیاستدان " کريم المحروس " نے بحرینی عوام اس کے بعد بھی میدان شہداء اور ملک کے دیگر علاقوں میں مظاہروں، ریلیوں اور دھرنوں کی دعوت کو لبیک کہیں گے اور حکومت کو غیر متوقعہ صورت حال سے دوچار کرتے رہيں گے۔ المحروس نے کہا: گذشتہ ہفتوں کے دوران عوام کے مظاہروں، ریلیوں اور دھرنوں نے ثابت کردیا کہ ملت بحرین آل خلیفہ حکومت کی سرنگونی کے لئے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لئے میدان عمل میں حاضر ہوتی رہے گی۔ خلیفی حکومت عالمی سطح پر اپنے وعدوں کے باوجود جرائم کے مرتکبین کے خلاف اقدام نہیں کررہی جمعیۃالوفاق الاسلامی نے آل خلیفہ حکومت کے اعلی اہلکاروں اور جرائم کا ارتکاب کرنے والی سیکورٹی فورسز کے درمیان رسمی طور پر تفاہم پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جرائم کر مرتکب اہلکاروں کی مکمل اور اعلانیہ پشت پناہی باعث تشویش ہے۔ جمعیۃالوفاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے انقلابیوں سے تفتیش ذرائع ابلاغ سے دور انجام پارہی ہے اور دوسری جانب سے آل خلیفہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ انقلابیوں کو بدنام کرنے کی تمام تر سعی کررہے ہیں اور یہ ذرائع عوام کے خلاف ہونے والے سرکاری جرائم