ابنا: برطانیہ کے ایک سیاسی مبصر مارک ویڈ ورتھ نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کیا اور کہا اس وقت برطانیہ میں نہایت خطرناک حالات ہیں جن میں حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کو سرے سے نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی سیاست دانوں کو ان حالات کا ذمہ دار قراردیا جاے کیونکہ انہوں نے ہی شدید کشیدگي پیدا کی تھی۔ ویڈ ورتھ نے کہا کہ شہریوں کے ٹیلیفونوں کی جاسوسی اور ایک سیاہ فام شخص کے پولیس کےہاتھوں مارے جانے سے حالات بگڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہےکہ موجودہ حالات سے بہت سے اداروں کی ناکامی ثابت ہوجاتی ہے لیکن میں یہ کہتاہوں کہ ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ لندن میں جمہوریت ناکام ہوچکی ہے۔ ادھربرطانوی پولیس نے لندن اور دوسرے شہروں میں ہونےوالے احتجاج کےنتیجے میں دوہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ لندن پولیس نے گذشتہ دو دنوں میں گھر گھر کی تلاشی لے کر لوگوں کوگرفتار کیا ہے۔ لندن پولیس کے ہاتھوں گرفتاریاں اب بھی جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لندن پولیس نے کم سن نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ لندن پولیس کے نائب سربراہ نے کہا تھا کہ مشتبہ لوگوں کے گھروں پر حملے جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاہ فام جوان کے پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے کےبعد لندن اور مختلف شہروں میں احتجاج شروع ہوا تھا۔............
/169