10 اگست 2011 - 19:30

لندن سے لیور پول تک عوامی غیظ و غضب کے واقعات؛ لندن میں عوامی غیظ و غضب کے مظاہروں کے چار روز ہوگئی ہیں، نسلی و مذہبی امتیاز، عوام پر شدید مالیاتی دباؤ، ملک میں امریکہ کی پالیسیوں کے اتباع کے نتائج، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مالی بحران نے انگریزوں کو بھی حکومت کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دلائی ہے جو اب لندن سے دوسرے بڑے شہروں میں آگ اور خون کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دنیا جہان میں آگ بھڑکانے والے بوڑھے استعمار کو آگ و خون کا سامنا ہے اور مشرق وسطی سے اٹھنے والی انقلابی لہر نے برطانیہ کو بھی آلیا ہے۔ ابھی تک 4 افراد پولیس تشدد کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اب تو عوامی تحریک نے لندن سے گذر کر دوسرے شہروں کا امن و سکون برباد کرکے رکھا ہوا ہے۔ پوری دنیا میں آگ و خون کھیلنے والے انگریزی استعماری ملک کے باسیوں کو ان مناظر کا سامنا ہے جن کے بارے میں وہ اپنے استعماری ذرائع ابلاغ کے ذریعے معلوم ہوا کرتا تھا اور بتایا جاتا تھا کہ تیسری دنیا یا اسلامی دنیا کے فلاں ملک میں اس قسم کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور یہ کہ برطانیہ بھی ان میں کردار ادا کررہا ہے۔ اس وقت لندن میں سولہ ہزار پولیس اہل کار تعینات ہیں اور شہر کو پولیس سٹی میں تبدیل کیا گیا ہے اور حکومت دعوی کررہی ہے کہ اس نے لندن میں لگی آگ پر کسی حد تک قابو پا لیا ہے تاہم دیگر علاقوں میں لگی آگ پر تا حال قابو نہیں پایا جاسکا، جلاوٴ گھیراوٴ اور لوٹ مار میں کروڑوں پاونڈز کے نقصان کے بعد حکومت اب فوج کی مدد لینے کےبارے میں سوچ بچار کرنے لگی ہے، حکومت مظاہرین کو بلوائی، فسادی، چور اور ڈاکو جیسے القاب عطا کررہی ہے۔ 1000 گرفتار افراد میں سے ایک سو پانچ افراد پر فردجرم عائد کردی گئی ہے۔سخت غصے کے عالم میں سڑکوں پرآنے والے شہریوں کا جذبہ بالکل ایسا ہی ہف جیسے وہ اپنے وطن کو دشمنوں سے بچانے نکلے ہیں۔ گریٹ مانچسٹرپولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات غیرمعمولی ہیں ،اوران پر قابو پانے کیلیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں ۔مانچسٹر ، سالفورڈ، لیورپول ، نوٹنگھم اور برمنگھم کی صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔ برطانیہ میں جاری عوامی تحریک پر پولیس اب تک قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے، ایسے میں قائد حزب اختلاف ایڈ ملی بینڈ کے بعد بعض برطانوی شہریوں نے بھی فوج کی مدد لینے کا مطالبہ کیا ہے لندن کے متعدد علاقوں میں لوگ غیظ و غضب میں بپھرے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دریں اثناء سرکار سے وابستہ ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ مبینہ بلوائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سڑکوں پر موجود ہیں اور اینفیلڈ کے علاقے میں کئی سو افراد اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔تا ہم ان ہی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ منگل کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیے جانے والے افراد کی عمریں بیس سال کے قریب تھیں اور ان میں اکثریت ماضی میں کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہیں رہے ہیں۔دریں اثناء برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ کی سڑکوں پر خوف کے راج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پولیس کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ مزید ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے آبی توپوں سمیت تمام ضروری وسائل مہیاکیے جائیں گے۔ انہوں نے عوام کے مطالبات اور مسائل نیز سرکاری اداروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی رپورٹوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے کہ کہا کہ "انسانی حقوق کے بارے میں بے وجہ کی  فکرمندی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا اور بقول ان کے "لوٹ مار کرنے والوں" کو تصاویر سے پہچان کران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔برطانوی نشریاتی اداروں اور غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق واقعات برمنگہم میں ہورہی ہیں۔ شہر میں نوجوانوں نے دکانیں، مارکیٹیں اور بڑی کمپنیوں کے گوداموں کو سمیت کاریں اور املاک بھی نذر آتشش کردی ہیں۔ دوسری طرف انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹ کمشن نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے پتا چلتا ہو کہ لندن کے علاقے ٹوٹینہم میں جمعرات کے روز پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص مارک ڈگن کے پاس سے ملنے والی پستول سے گولی چلائی گئی ہو۔ادھر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن اور ملک کے دیگر شہروں میں فسادات کے بعد پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور پولیس کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔حکومت ابھی تک دھونس دھمکیوں سے کام چلانے کی کوشش کررہی ہے اور وزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا ہے کہ ٹوٹنہم سے شروع ہونے فسادات ناقابل قبول ہیں اور ان میں حصہ لینے والوں کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔لندن میں عوامی مظاہروں کے دوران پیر کو زخمی ہونے والا شخص چل بسا ، اس طرح چار روز سے جاری فسادات میں یہ چوتھی ہلاکت ہے۔ عوامی مسائل و مطالبات کو یکسر نظر انداز کرنے والی حکومت برطانیہ کے ذرائع کے مطابق "ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بنیادی طور پر ان فسادات کی وجہ کیا ہے"۔مظاہروں کا آغاز ٹوٹنہام (Tottenham) کے فقیر نشین علاقے سے ہوا ہو جن کو کیمرون کے سخت مالیاتی اقدامات سے شدید مسائل کا سامنا ہے اس لحاظ سے مصر اور تیونس کے انقلاب کی نشانیاں اس تحریک میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ برطانوی نوجوان ـ جن کا تعلق تمام نسلوں اور مذاہب سے ہے ـ  پولیس کے مسلح اہلکاروں سے خالی ہاتھ لڑ رہے ہیں اور وہ آگ کے گولے اور پتھر پھینک کر اپنے غصے کا اظہار کررہے ہیں۔گرفتار افراد میں 11 سالہ بچہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ عوامی غضب کے سامنے بے بس برطانوی حکومت نے برطانوی خاندانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گھر بلوائیں تاہم یورپ میں خاندانی نظام کی تباہی اور فردی آزادیوں کے نام پر عجیب و غریب غیر فطری قوانین کی منظوری کے بموجب خاندانوں کا بچوں پر زیادہ کنٹرول نہیں ہے۔برطانیہ کے انقلاب کے بیچوں بیچ "جمہوریت پسندی" کے حق میں اور نام نہاد "آئینی بادشاہت" کے خاتمے کے نعرے بھی سنائی دے رہے ہیں گو کہ یہ نعرے اور مطالبات شدید سرکاری سنسر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں تاہم لگتا ہے کہ عرب آمریتوں کی مانند انگریزی بادشاہت کے دن بھی گنے جاچکے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110