ابنا: عمران حسین منگل کی صبح اپنے دفتر جا رہے تھے کہ راستہ میں چھپے ہوئے دہشت گردوں نے اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی، تین گولیاں عمران کے سر اور ایک گولی کمر میں جالگی۔
عمران حسین کو شدید زخمی حالت میں سرکاری اسپتال لے جایا گیا جہاں سے انہیں تشوشناک حالت کے پیش نظر پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری نے پمز اسلام آباد میں زیر علاج عمران حسین کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
عمران حسین کے لواحقین نے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی راہنما کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے عمران کا سات گھنٹے طویل اپریشن کرنے کے بعد خوشخبری سنائی ہے کہ اب ان کی زندگی خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی آئی خان میں ہر بیسویں دن کوئی نہ کوئی لاش گررہی ہے، ان تمام کارروائیوں میں کالعدم تنظیم کے وہ دہشت گرد ملوث ہیں جو چند روز پہلے جیل سے رہا ہوئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کی ہر واردات کا مقدمہ تو درج کر لیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر کسی مجرم کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی، جو قانون کے قتل کے مترادف ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ چند مہینوں میں 50 سے زائدشیعہ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن کسی ایک مجرم کو گرقتار نہیں کیا گیا اور کسی کو بھی سزا نہیں ملی جب کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم کے کسی فرد کو خراش بھی آجائے تو شیعہ علاقوں میں قیامت برپا کر دی جاتی ہے اور بے گناہ افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔.............
/169