ابنا: صدر محمود احمدی نژاد نے یورو نیوز کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران یورپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کا خیر مقدم کرتا ہے کہا کہ یورپی حکومتیں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور تعاون کو امریکہ کی وجہ سے متاثر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور یورپ کے درمیان وسیع تکنیکی ، سیاسی اور ثقافتی تعاون ہو سکتا ہے۔ صدر مملکت نے ایٹمی معاملے اور بیس فی صد یورینیم کی افزودگي اور اس بارے میں کہ مغربی سائنس دانوں کے مطابق ایران کی یورینیم افزودگي کا پرامن مقاصد سے کوئي تعلق نہیں ہے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ جن لوگوں کا کہنا ہے کہ ایران غیر پرامن مقاصد کی طرف بڑھ رہا ہے وہ مغربی سائنس داں نہیں ہیں بلکہ یہ خیال مغربی سیاست دانوں کا ہے۔ صدر احمدی نژاد نے افغانستان کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ صرف افغان عوام کے حقوق کا احترام کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے مقدمے اور اس سلسلے میں ایرانی موقف سے متعلق کہا کہ یہ افسوس ناک امر ہے کہ بعض حکمرانوں کے اپنی قوموں کے ساتھ تعلقات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ قومیں اپنے رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے شام کے حالات اور وہاں ہونے والے احتجاج کے بارے میں کہا کہ آزادی اور انصاف کے سائے میں زندگي گزارنا قوموں کا حق ہے لیکن بلا شک اگر ملکوں کے داخلی مسائل میں دیگر مداخلت نہ کریں تو مشرق وسطی کی قومیں اپنے مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔.............. /169
3 اگست 2011 - 19:30
News ID: 257699
صدر جناب احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ یورپ کے تعلقات امریکہ کے زیر اثر نہیں ہونے چاہئيں۔