ابنا: لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں اور گلیاں اور بازار انسانی خون سے رنگین ہو رہے ہیں اس خونریزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے ہی نہیں مسلم دنیا کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ماہ جولائی کے دوران تین سو سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔کراچی میں روزانہ متعدد افراد نامعلوم سمت سے آنے والی اندھی گولی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فائرنگ کرنے والا کون ہے ؟یہ معمہ شاید کبھی حل نہ ہو۔ سیکورٹی حکام کے مطابق صرف جولائی میں کراچی میں تین سو سے زاہد افراد کو قتل کر دیا گیا چار سو سے زاہد افراد زخمی بھی ہوئے۔ شرپسندوں نے ایک ماہ میں ساٹھ گاریاں بھی جلا ڈالیں۔ کراچی میں قتل کیے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق پانچ سے آٹھ جولائی کے دوران سو افراد جب کہ تیئس سے انیس جولائی کے درمیان چوراسی افراد کو قتل کر دیا گیا۔ شہر میں تین سو افراد کے قتل کے بعد سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن کہتے ہیں کہ شرپسند ان کے بھٹکے ہوئے بھائی ہیںاور حکومتان کے خلاف آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، انہیں پیار اور محبت سے سمجھائیں گے۔
............
/169