29 جولائی 2011 - 19:30

پاراچنار کے عوامی و سماجی حلقوں نے کوہاٹ بورڈ انٹر میڈیٹ پارٹ فرسٹ میں 550 میں سے 494 نمبر لے کر بورڈ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم وکیل حسین اور بنوں بورڈ پارٹ فرسٹ میں 550 میں سے 484 نمبر لے کر بورڈ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم حدید حسین کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اسے پاراچنار کے لئے ایک اعزاز قرار دیا ہے.

گذشتہ پانچ سال سے بدترین محاصرے اور اقتصادی ناکہ بندی کا شکار پاکستانی غزہ پاراچنار کے عوام نے اگر ایک طرف طالبان جارحیت، لشکر کشیوں اور غیر انسانی مسلط محاصرے کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ تو ساتھ ہی دیگر شعبہ ہائے زندگی بالخصوص تعلیم کے شعبے میں بھی اہلیان پاراچنار کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

قبائلی علاقہ ہونے کے باوجود پاراچنار کی شرح خواندگی اور تعلیم کی طرف رغبت پاکستان کے بڑے شہروں حتٰی کہ اسلام آباد سے کچھ کم نہیں۔حال ہی میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج میں کوہاٹ اور بنوں بورڈ میں ٹاپ پوزیشن لینے والے طلبا کا تعلق پاراچنار سے ہے۔

اسی طرح پشاور بورڈ اور ملک کے دیگر حصوں میں قائم کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھی پاراچنار کے طلبہ امتیازی نمبروں سے پاس ہو کر اپنے اداروں میں ٹاپ کر رہے ہیں۔ پاراچنار کے عوامی اور سماجی حلقوں نے کوہاٹ بورڈ انٹر میڈیٹ پارٹ فرسٹ میں 550 میں سے 494 نمبر لے کر بورڈ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم وکیل حسین اور بنوں بورڈ پارٹ فرسٹ میں 550 میں سے 484 مارکس لے کر بورڈ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم حدید حسین کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے اسے پاراچنار کے لئے ایک اعزاز قرار دیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا تھا کہ جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے، اگرچہ استعماری قوتیں اور اندرون ملک ان کے آلہ کار بالخصوص طالبان دہشت گرد اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود بعض کالی بھیڑیں پاراچنار کے عوام کو ختم کرنے اور ہر محاذ میں تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ تاہم اللہ کے خصوصی لطف و کرم اور اہلبیت اطہار ع کے وسیلے سے میدان جنگ میں دفاع ہو یا تعلیم کا میدان، پاراچنار کا نام سرفہرست ہے۔

.........

/110

منبع: عالمی اخبار بحوالۂ اسلام ٹائمز