29 جولائی 2011 - 19:30

اوسلو ... ناروے میں بم دھماکے اور یوتھ کیمپ پر فائرنگ میں مارے جانے والوں کی یاد میں مسجد اور چرچ میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔

ابنا: سیکڑوں افراد نے اظہار یکجہتی کے لیے مسجد سے چرچ تک سفر کیا،گزشتہ جمعے کو اسلام مخالف انتہا پسند کے حملوں میں مارے جانے والوں میں دو مسلمان افراد بھی شامل تھے، 18 سالہ بانو راشد اور اسماعیل حاجی احمد کے لیے اوسلو کی مرکزی مسجد میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ناروے کے وزیر اعظم جینس اسٹولٹن برگ اور ناروے کے ریاستی چرچ کے بشپ نے بھی شرکت کی۔ بعد ازاں سیکڑوں افراد نے مسجد سے چرچ تک ریلی نکالی اور وہاں یادگار پر پھول چڑھائے۔ اسلامک کونسل آف ناروے کے سیکریٹری جنرل مہتاب افسر کے مطابق ریلی کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ مذہب، ثقافت اور رنگ و نسل کے اختلافات کے باوجود تمام انسان ایک ہیں اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود ناروے کے سماج کا ایک لازمی جزو ہیں۔ 
..............

/169