ابنا: عدالت کو بتایا گیا ہے کہ حسین اصغر بدستور گلگت بلتستان میں ہیں جس پر سپریم کورٹ نے انہیں اسلام آباد واپسی پر ایف آئی اے میں فوری چارج دینے کا حکم بھی دیا ہے ۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چھ رکنی خصوصی بنچ نے حج کیس کی سماعت کی ،اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے وزیراعلی کی ہدایت پر حسین اصغر کو آئی جی پولیس کا عہدہ چھوڑنے سے روک رکھا ہے جو درست اقدام بھی نہیں ، اٹارنی نے کہا کہ انکی وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوسکی،بعد میں عدالت نے تحریری حکم جاری کیا، اس میں کہا گیا ہے کہ پارلے منٹرینزہی یہ کیس عدالت لائے ،سعودی شہزادہ نے بھی کرپشن کی شکایت کی، مقدمہ کے ایک ملزم راوٴ شکیل کے بطور ڈی جی حج تقرر کے وقت ان پر احتساب کیسز تھے، اس کا ای سی ایل سے نام وزیرداخلہ نے نکلوایا جبکہ وزیراعظم نے تقرر کی منظوری دی، حسین اصغر اور جاویدبخاری نے بطور تفتیشی آفیسر اہم پیشرفت کی تو انہیں ہٹادیا گیا، تفتیش کے مطابق بظاہرحکومت میں بیٹھے بعض بااثرافراد بھی ملوث ہیں، آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ عدالت کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ ملک میں جمہوری نظام چلے، عدلیہ کی آزادی پربھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،آرڈر میں سہیل احمد کو او ایس ڈی بنانے کا نوٹی فکیشن ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مجازاتھارٹی کوکہا گیا ہے کہ وہ سات دن میں ان کا کہیں بھی تقررکریں اور ایسا نہ ہوا تو او ایس ڈی بنانے کا نوٹی فکیشن معطل تصور ہوگا ، عدالت نے حسین اصغر کے معاملے پر ہرہفتے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ .........
/169