ابنا: انھوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈی سی او پشاور نے کاروان کو مکمل سیکورٹی اور گاڑیاں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد کاروان کےساتھ بھجوائے جانے والے امدادیسامان کے ٹرک ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیئے گئے تھے، مزید براںڈپٹی چیف سیکرٹری فاٹا طارق حیات خان نے بھی گزشتہ روز میٹنگ کے دوران کاروان کو مکمل سیکورٹی دینے اور پارا چنار جانے کے لیے گاڑیاں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن انہوں نے اس ضمن میں جن افراد کو ذمہ داریاں سونپی تھیں وہ اب غائب ہو چکے ہیں اور کاروان بدستور پشاور میں رکا ہوا ہے ، علامہ امین شہید ی نے بتایا کہ آج دوبارہ ڈی سی اور پشاور کے ساتھ میٹنگ ہوئی تو انہوں سابقہ رویہ کی معذرت کرتے ہوئے امدادی سامان دوسرے ٹرکوں میں منتقل کرنے اورکاروان کو پارا چنار لے جانے کی اجازت دی لیکن جونہی ہم سامان دوسرے ٹرکوں میں منتقل کرنے کے لیے پولیس لائن پہنچے تو وہاں پر موجود اہلکاروں نے واشگاف الفاط میں کہا کہ سامان کی دوسری گاڑیوں میں منتقل کرنے اورکاروان کو پارا چنارلے جانے کیا اجازت نہیں ، علامہ امین شہیدی نے کہا کہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ شرکائے کاروان کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہے اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو اس کا پورے ملک سے شدید رد عمل سامنے آئے گا اور حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری پشاور کی ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
28 جولائی 2011 - 19:30
News ID: 256286
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ پشاور کی انتظامیہ چوہے بلی کا کھیل ختم کرے اور ایم ڈبلیو ایم کے امدادی امن کاروان کی فی الفور پارا چنار روانگی یقینی بنائے ، کاروان کی روانگی کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا موجودہ رویہ کسی بھی صورت میں قابل برداشت نہیں ، اگر پشاور کی انتظامیہ نے کاروان کو روکنے کے لیے تھرڈ کلاس حربے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کا پورے ملک سے شدید رد عمل سامنے آئے گا۔