ابنا: عیدالفطر کے بعد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے دینی جماعتوں کا اجلاس بلایا جائے گا، ایم ایم اے بحال نہ ہوئی تو انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر غور کیاجائے گا۔ وہ پشاور میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایم ایم اے بحالی کی خواہش ہے،تاہم جماعت اسلامی کے مرکزی امیر اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ میں دینی مدارس پر دباو ڈالا جارہا ہے اور علما ء کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کہ دینی مدارس کو قانون کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی حکومت فوج کی تابع ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فاٹا میں بین الاقوامی ایجنڈہ کے تحت پالیسیاں تبدیل کی جارہی ہیں۔ اگر موجودہ پالیساں جاری رہیں تو ملک کا مستقبل تاریک ہوگا۔
..............
/169