26 جولائی 2011 - 19:30

اسلام آباد ..... برطانوی امدادی ادارے آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس سیلاب سے متاثر ہونے والے 8 لاکھ خاندان تاحال بے گھر ہیں،

ابنا: پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین تباہی کے ایک سال بعد بھی ایک اور سیلاب سے نمٹنے کے لئے صحیح طور پر تیار نہیں۔ آکسفیم کی ایک رپورٹ میں بحالی اور تعمیر نو کے کام کی رفتار پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان میں مون سون کا نیا سیزن شروع ہو گیا ہے ملک کے بیشتر حصے میں ابھی تک سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے نظام نہیں۔ آکسفیم پاکستان کی سربراہ نیواخان نے رپورٹ کا باقاعدہ اجراء کیا جس کا عنوان ”تیار ہیں یا نہیں :سیلاب کی تباہ کاریوں کا ایک سال گزرنے کے بعد پاکستان میں بحال ہونے کی صلاحیت“ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010ء کے سیلاب کے نقصانات کا تخمینہ 10 ارب ڈالر تھا ۔رپورٹ کے مطابق سندھ میں 37 ہزار افراد کیمپوں میں ناکافی سہولتوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رواں سال بھی متوقع سیلاب سے 20 لاکھ سے 30 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں آکسفیم کی سربراہ نیواخان نے کہا کہ دیہی علاقوں کے رہائشی اب بھی سیلاب کے خطرے کو محسوس کر رہے ہیں اور انہوں نے رواں سال متوقع سیلاب کے خدشے کے پیش نظر معمول کے برعکس کم رقبے پر فصلیں کاشت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخی اعتبار سے آفات کا شکار ملک ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں تاکہ ملک کو بڑے انسانی المیے سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان عالمی اداروں کی معاونت سے آفات سے بچاؤ کے اقدامات جن میں سیلابی مزاحمت کے حامل مکانات کی تعمیر اور گاؤں کی سطح تک پیشگی خبردار کرنے کا موثر نظام شامل ہیں کرے تو قیمتی جانوں اور وسائل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔  ......

169