20 جولائی 2011 - 19:30

وانا.. .... . .جنوبی وزیرستان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجرجنرل رضوان اختر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر لانے میں تیسری قوت رکاوٹ بن رہی ہے.

ابنا:افغانستان سے سرحد پارپاکستان میں دراندازی ہورہی ہے۔ وہ وانا میں صحافیوں کو جنوبی وزیرستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں غیرملکیوں کے خاتمے کے بارے میں ختمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا،تاہم زیادہ تر علاقوں میں غیرملکی موجود نہیں ہے۔ جی او سی میجرجنرل رضوان اختر نے مزید بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر لانے میں تیسری قوت رکاوٹ بن رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فغانستان سے سرحد پارپاکستان میں دراندازی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں بارود کے کارخانے کی نشاندہی دیر سے کی گئی،جس کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑے۔ میجرجنرل رضوان اختر نے بتایا کہ زیادہ تر علاقوں میں امن قائم ہوچکا ہے اور اب عام آدمی کا اعتماد حاصل کرنا سیکورٹی فورسز کی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں ترقیاتی کام زور و شور سے جاری ہے۔ ..............

/169