18 جولائی 2011 - 19:30

آیات القرمزی نے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں ٹارچر اور تشدد کے واقعات فاش کرتے ہوئے کہا: میرا قیدخانہ ٹارچر سیل کے پاس تھا اور کراہنے کی صدائیں مسلسل سنائی دیتی تھیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے اذیتکدے سے مشروط رہائی پانے والی نوجوان انقلابی شاعرہ نے اپنے انٹرویوز میں بتایا: مجھی بحرینی عوام کے دباؤ کے تحت مشروط رہائی دی گئی ہے اور اس وقت اپنے گھر میں نظر بند ہوں۔یادرہے کہ القرمزی کو آج بھی خلیفی سیکورٹی والوں نے بلوایا ہے اور نیا ڈرامہ شروع کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔پہلا انٹرویوتقریباً 110 دن تک خلیفی اذیتکدے میں گذارنے والی 20 سالہ بحرینی انقلابی شاعرہ «آیات القرمزی» نے ایک مختصر انٹرویو میں کہا: آل خلیفہ حکومت کے گماشتوں نے مجھے سیاسی قیدی کی حیثیت سے دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا تھا؛ مجھے کسی سے بات کرنے اور کچھ پوچھنے کی اجازت نہ تھی۔آیات القرمزی نے اس انٹرویو میں مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے اوپر گذرنے والی مصائب کی طرف اشارہ نہیں کیا لیکن خلیفی اذیتکدوں میں ٹارچر اور تشدد سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا: میرا سیل ٹارچر سیل کے ساتھ ہی تھا اور اس سیل سے ہر وقت تشدد اور ٹارچر کے نتیجے میں قیدیوں کی آہ و فریاد اور کراہنے کی صدائیں سنائی دیتی تھیں اور راتوں کو بھی میرے لئے سونا ممکن نہ تھا۔ اور تشدد کا سلسلہ کسی ناغے کے بغیر مسلسل جاری رہتا تھا۔واضح رہے کہ لگتا ہے کہ خلیفیوں کی طرف سے انہیں ٹارچر سیل کے قریب رکھا جانا روحانی اور نفسیاتی ایذارسانی کے زمرے میں آتا ہے۔انھوں نے کہا: مجھے اس شرط پر رہا کردیا گیا ہے کہ اس کے بعد کبھی بھی مظاہروں، اجتماعات، دھرنوں اور ریلیوں میں شرکت نہ کروں، اس وقت بھی میں نظر بند ہوں اور گویا اپنے گھر میں مجھے قید کرلیا گیا ہے۔ رائٹرز کے ساتھ گفتگوتاہم اس نوجوان بحرینی شاعرہ نے رائٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے اوپر تشدد کی کہانی کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: مجھ جیل میں زد و کوب کیا جاتا رہا، کبھی ایذاء رسانی کے مقصد سے وہ مجھے گندگی میں ہاتھ رکھنے پر مجبور کیا کرتے تھے۔انھوں نے کہا: قید اور تشدد کے این ایام مجھے کئی بار شدید زد و کوب کا نشانہ بنایا گیا لیکن مزید تفصیلات اب نہیں بتا سکتی۔ یادرہے کہ آل خلیفہ حکومت نے عوام پر تشدد اور جیلوں میں ایذاء رسانیوں کے سلسلے میں شائع ہونے والی تمام رپورٹوں کی تردید کی تھی اور خلیفی بادشاہ نے بذات خود اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھ کر ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ نہ کریں کیونکہ انھوں نے خود ایک ٹیم بنائی ہے جو اس سلسلے میں تحقیقات کرے گی اور یوں امریکی لونڈی کی ذیلی لونڈی نے مسکرا کر ٹیم نہ بھیجنے کا اعلان کیا کیونکہ اس ٹیم کا بحرین جانا خلیفی حکومت کی رسوائی اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچنے کا سبب بن سکتا ہے۔ بہر صورت ابھی تک خلیفی جیلوں سے کئی افراد کی تشدد زدہ لاشیں باہر نکلی ہیں اور اب ایک زندہ انسان ایذاء رسانیوں کی گواہی کے لئے جیل سے باہر ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔القرمزی نے کہا: میری آزادی مشروط ہے اور انھوں نے مجھے ایک کاغذ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا ہے جس کے تحت مجھے گھر میں رہنا پڑے گا اور ذرائع ابلاغ سے بات چیت سے اجتناب کرنا پڑے گا۔آیات القرمزی نے کہا: بحرین کے نوجوانوں کے ہر روز کے مظاہروں نے مجھے حیرت زدہ کردیا ہے اور میں بھی ملک میں جمہوری اصلاحات کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی اور مجھے امید ہے کہ ملک میں بنیادی اور مؤثر تبدیلیاں عمل میں آئیں اور ہمارے ملک کی صورت حال مستقبل قریب میں فرقہ وارانہ اور قبائلی امتیازات کی لعنت سے پاک ہوجا‏ئے۔آیات القرمزی کا تعارف؟بحرین کی نوجوان انقلابی شاعرہ «آیات حسن یوسف القرمزی» بحرین یونیورسٹی کی ٹیچر ٹریننگ فیکلٹی کی طالبہ ہیں اور بحرین کے "14 فروری نوجوان انقلابی الائنس" کی رکن ہیں۔ نجد سے آکر بحرین پر مسلط ہونے والے غاصب آل خلیفہ خاندان کے خلاف القرمزی خاندان کا احتجاجی رویہ بہت پرانا ہے۔ ان کے والد حسن یوسف القرمزی نے 1990 کی دہائی میں آل خلیفہ خاندان کے استبداد اور جبر و ستم کے خلاف شاعری کی تھی جس کی بنا پر انہیں پابند سلاسل کیا گیا۔ اور ان کے بھائیوں کو بھی خلیفی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔ آیات القرمزی نے 14 فروری 2011 سے شروع ہونے والی انقلابی تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور میدان اللؤلؤة میں طویل المدت دھرنے کے دوران 23 فروری کو آل خلیفہ حکومت کے خلاف ایک قصیدہ پڑھا جس کا عنوان انھوں نے "بحرینی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے ساتھ شیطان کا مکالمہ" رکھا تھا۔ان کے اس قصیدے کو ذرائع ابلاغ نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور وسیع سطح پر اس کو کوریج دی گئی یہاں تک کہ خلیفی اداروں کی طرف سے انہیں ایمیل اور موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں اور 15 مارچ کو سعودی جارحین نے بحرین پر قبضہ کیا اور وسیع کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا تو ان کی گرفتاری کے لئے بھی چھاپوں کا آغاز ہوا۔ آل سعود کے درندوں کے حمایت یافتہ آل خلیفی غنڈوں نے دو بار ان کے گھر پر حملہ کیا اور ان کے گھر والوں کو دھمکی دی کہ اگر انھوں نے آیات القرمزی کا  ٹھکانہ انہیں نہ بتایا تو وہ ان کا گھر ان کے سروں  پر ویراں کردیں گے۔ 29 مارچ 2011 کو عام لوگوں کے بھیس میں 20 خلیفی سعودی غنڈوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں اور گھر کا ساز و سامان منہدم کردیا۔ غنڈوں نے کہا کہ انہیں آل خلیفی حکومت کے اعلی اہلکاروں نے بھیجا ہوا ہے اور یہ کہ انہیں حکم ہے کہ آیات القرمزی کو گرفتار کرکے سزا دیں۔واضح رہے کہ غنڈوں کے یہ اقدامات ان کے خاندان کو گمراہ کرنے کے لئے ہورہے تھے جبکہ شہیدہ آیات القرمزی آل خلیفہ فورسز نے اغوا کرلیا تھا۔خلیفی گماشتوں نے 30 مارچ بروز بدھ اعلان کیا کہ انھوں نے آیات القرمزی کو گرفتار کر لیا ہے۔ آیات القرمزی کی والدہ کیا کہتی ہیں:نوجوان بحرینی شاعرہ کی والدہ کہتی ہیں: جس وقت سرکاری فورسز ہم سے تفتیش کررہی تھیں اور ہمیں دھمکیاں دے رہی تھیں ہمیں اپنی بیٹی کے بارے میں بالکل کوئی اطلاع نہیں تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہماری بیٹی کہاں ہیں؟انھوں نے کہا: سرکاری غنڈوں کی طرف سے متعدد بار جارحانہ اقدامات اور دھمکیوں کے بعد ہمیں شک ہوا کہ گویا ہماری بیٹی کو کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ چنانچہ ہم نے تلاش شروع کردی اور جب ہم نے خلیفی پولیس سے رجوع کیا تو پولیس والوں نے لاعلمی کا اظہار کیا لیکن سرکاری گماشتوں نے ہم سے یہ نہیں کہا کہ "تم نے انہیں کہیں چھپا رکھا ہے بلکہ ہم سے ایک کاغذ پر آیات کی گمشدگی کی تحریری رپورٹ لکھنے کے لئے کہا" جس سے ہمارے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوا اور ہم نے انہیں کوئی تحریر نہیں دی۔ انھوں نے کہا: اپریل کے وسط میں ہمیں ایک نامعلوم شخص نے ٹیلی فون پر بتایا کہ "آپ کی بیٹی آل خلیفی آرمی کے اسپتال میں ہیں اور وہ اس وقت کومے میں ہیں اور ڈاکٹرز انہیں بچانے کی کوششیں کررہے ہیں"؛ چنانچہ ہم نے آرمی اسپتال سے رجوع کیا اور ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ "آپ کی بچی متعدد بار غیر انسانی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد کومے میں گئی ہیں"۔آیات کی والدہ کا یہ بیان پریس ٹی وی نے نقل کیا تھا جس کے بعد ان کی شہادت کی خبر تھی لیکن بعد میں ان کی شہادت کی خبر کی تردید ہوئی۔

بحرین، آل خلیفہ – آل سعود کا تشدد / 20 سالہ بحرینی شاعرہ آیات القُرمُزی شہید / اہم اپڈیٹ

اس کے بعد ابنا ہی کی رپورٹ کے مطابق آیات کی والدہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کو بیٹی سے ٹیلی فون پر رابطہ کرایا گیا ہے اور وہ زندہ اور سلامت ہیں۔آل خلیفی کی نمائشی فوجی عدالت میں آیات القرمزی پر مقدمہ 12 جون کو شروع ہوا اور ایک روز میں ان کو ایک سال کی سزا بھی سنائی گئی جبکہ ان کو وکیل رکھنے کا حق حاصل نہیں تھا۔

بحرین / خلیفی فوجی عدالت سے بحرینی شاعرہ "آیات القُرمُزی" کو ایک سال قید کی سزا

آیات کی والدہ نے لوگوں کو بتایا کہ ان کی بیٹی پر زبردست دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ بادشاہ سے معافی مانگ لے اور پھر 20 جون کو 30 سیکنڈ کی ایک ویڈیو خلیفی ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی جس میں خلیفیوں کے بقول آیات القرمزی نے بادشاہ اور بادشاہ کے چچا وزیراعظم سے معافی مانگ لی جس کے بعد ابنا نے ایک مضمون شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ: "اس معافی کو نشر کرنے کا یہ عمل دو حال سے خارج نہیں ہے؛ یا تو یہ کلپ جھوٹ پر مبنی ہے یا پھر صحیح ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو پھر ظل ہمایونی بادشاہ سلامت انہیں معاف کیوں نہیں کرتے اور انہیں رہا کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور اگر یہ جھوٹ ہے تو عربیت اور اسلام کا دعوی کرنے والی آل خلیفہ حکومت عرب لڑکیوں اور خواتین کو تشدد اور آزار و اذیت کا نشانہ بنا کر انہیں ایسی معافیاں مانگنے پر مجبور کیوں کرتی ہے؟"۔

جلالة الملك یعفو عن آیات القرمزي!

ابنا کے اس اقدام کا عرب دنیا میں بالعموم اور بحرین میں بالخصوص خیر مقدم ہوا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اس کی وسیع پذیرائی ہوئی اور زبان بہ زبان اور موبائل بہ موبائل غاصب خلیفی حکومت کے ماتھی پر سوالیہ نشان بن گیا اور تین ہفتے بعد اسی ابلاغی اقدام اور اندرونی اور بیرونی دباؤ کے بعد خلیفی خاندان نے لاچاری کی حالت میں انہیں رہا کردیا۔

باتصویر - بحرین / انقلابی شاعرہ "آیات القرمزی" خلیفی قید سے رہا ہوگئیں / زبردست استقبال

خلیفی حکومت نے ان کی رہائی کے بعد فوری طور پر انہیں گھر میں نظر بند کیا۔

بحرین:شیعہ شاعرہ آیات القرمزی کو نظر بند کر دیا گیا

بحرین: انقلابی تحریک جاری / آیات القرمزی گھر میں نظربند

آیات القرمزی کو 110 سے زیادہ دنوں تک خلیفی خاندان کے اذیتکدوں میں قید و بند اور ایذاء رسانیاں جھیل لینے کے بعد 13 جولائی 2011 کو شرطیں لگا کر رہا کردیا گیا۔ خاندان کے افراد کے علاوہ بحرین کے حریت پسند عوام نے ان کا زبردست استقبال کیا اور صدد کے علاقے میں ان کے والد کے گھر کے ارد گرد جمع ہوئے اور سعودی عرب کے سنی اور شیعہ علاقوں سے ان کے لئے سینکڑوں تحفے تحائف بھیج دیئے گئے۔آیات القرمزی نے رہا