13 جولائی 2011 - 19:30

تہران میں ڈاکٹرائين مھدویت کے زیرعنواں عالمی کانفرنس شروع ہوئي ۔ اس کانفرنس میں ملکی اور غیر ملکی علما اور دانشور شرکت کررہےہیں۔

ابنا: ڈاکٹرائن مھدویت کی یہ ساتويں عالمی کانفرنس ہے اور اس کا عنوان " ظہور کی فضا ہموار کرنےوالے ذرایع ابلاغ رکھا گياہے۔ ڈاکٹرائن مھدویت کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد مھدویت کی ثقافت کو رواج دینا ہے۔مستند روایات کے مطابق9 ربیع الاول سنہ 260 ھ ق کو حضرت امام حسن عسکری (ع) کی شہادت کے بعد حضرت امام مہدی (عج) کی امامت کا آغاز ہوا ۔حضرت امام مہدی (عج) پروردگار عالم کے حکم سے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے ۔ آپ سنہ 328 ھ ق تک اپنے خاص نائبوں کے ذریعے لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے ۔ متعدد روایات کے مطابق آپ اسلام کی عالمی حکومت کے لئے قیام کریں گے ۔ جب دنیا ظلم و جور سے پر ہوجائے گی اس وقت آپ ظہور فرمائیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے پر کردیں گے ۔ مہدویت کے بارے ميں اپنے ایک خطاب میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تاکید کی ہے کہ اس موضوع کے حقیقی ماہرین کے ہاتھوں عالمانہ ، دقیق اورمضبوط کام انجام پاناچاہئے اورعامیانہ ، جاہلانہ ،غیرمعتبر، اور اوہام وتخیلات پرمبنی کاموں سےپرہیزکرنا چاہئے۔بہر حال ڈاکٹرائين مھدویت عالمی کانفرنس کا افتتاح مجلس خبرگان یاماہرین کی کونسل کے سربراہ آيت اللہ مہدوی کنی کی تقریر سے ہوا، انہوں نے کانفرنس سے خطاب میں قرآنی آیات سے دلیل پیش کرتے ہوئے وعدہ الھی ، عمل صالح اور خلیفہ خداوندی جیسے مسائل پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ مسئلہ امامت کی شناخت و معرفت محض جذبات سے ممکن نہیں ہے اور رہبر انقلاب اسلامی نے بھی فرمایا ہےکہ مھدویت کے شعبے ميں سطحی کاموں سے پرہیز کیا جائے اور عالمانہ اور اجتھادی کام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عصر غیبت کےتعلق سے وارد ہونے والی روایات میں اختلاف و تقرقے سے پرہیز کرنے پر بے حد تاکید کي گئي ہے ۔ آیت اللہ مھدوی کنی نے کہا کہ اسلامی حکومت میں ولی فقیہ کا قول، فیصلہ کن ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی حکومت کو عوام اور حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی تائيد حاصل ہے اور ہمیں متحد ہوکر برادری، بھائي چارے ، فداکاری اور جہادسے رہبرانقلاب اسلامی کی پیروی کرتے ہوئے اس حکومت کی حفاظت کرنی چاہیے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169