ابنا: این آئی سی ایل کیس شروع ہونے پرچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ڈی جی ایف آئی آر سے چار اہلکاروں کی کیس میں میں بحالی کا نوٹی فکیشن مانگا جس پر ایف آئی اے نے ایک ڈرافٹ پیش کرنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔اوردس منٹ میں نوٹس واپس لانے کو کہا۔جس پر قائم مقام ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کے سامنے چار اہلکاروں کی واپسی کا نوٹیفیکیشن دستخط کر کے پیش کر دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص کے بیرون ملک اکاوٰنٹ میں چودہ ہزار پاوٰنڈ پڑے ہیں اس کو سب بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لوٹی گئی دولت ہمیں نہیں ملک کو ملے گی۔چالان بھی اب تک مکمل نہیں۔عدالت ملزمان کو پکڑواتی ہے اور حکومت تحفظ دیتی ہے۔کیا عدالت یہ سمجھے کہ اس کیس میں سیاسی مداخلت کی جا رہی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کیس مصیبت بن گیا ہے ، اشتہار بھی ہمارے خلاف چلائے جا رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169