ابنا: کراچی، سینئر صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف بیان کے بعد کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور کاروبار زندگی معطل ہوگیا۔ رات گئے سے پرتشدد واقعات میں8 افراد ہلاک اور 20زخمی ہوگئے جبکہ11 افراد کو اسلحہ سمیت گرفتارکرلیا گیا ہے۔کئی علاقوں میں اب تک5 گاڑیوں،3 ٹرکوں اور 2 بسوں کے علاوہ 3کئی دکانوں کی بھی آ گ لگادی گئی ہے ۔کراچی کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے بعد پیٹرول پمپس،سی این جی اسٹیشن ،ہوٹلز اور دکانیں بند ہوگئیں ہیں۔ناظم آباد،گولیمار،لیاقت آباد،شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ جاری ہے۔فیڈرل بی ایریا،ابوالحسن اصفہانی روڈ،انچولی سوسائٹی کے علاقے میں مسلح افراد کی شدید فائرنگ جاری ہے جس کے باعث دکانیں بند ہوگئیں ہیں اور شہریوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ اولڈ سٹی ایریاز میں شدید فائرنگ کی گئی ہے۔کراچی میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور20 زخمی ہوگئے۔حیدرآباد میں بھی فائرنگ کی زد میں آکر ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ کراچی کے متاثرہ علاقوں میں رینجرز نے گشت شروع کردیا ہے ۔اندرون سندھ بھی ذوالفقار مرزا کے بیان کے بعد سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔لاڑکانہ ،نوڈیرو،سکھر کے علاقوں چوک میانی اور غریب آباد ،شکار پور ،ٹنڈوالہ یار ،میر پور خاص کے علاقوں میں بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ایم کیوایم نے ذوالفقار مرزا کے بیان کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا ہے۔مختلف علاقوں میں فائرنگ 7 افراد ہلاک،حیدرآباد میں ایک شخص جا ں بحق
ذوالفقار مرزا کے بیان پر ہنگامہ آرائی،رینجرز اہلکار سمیت12ہلاک کراچی…سینئر صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف بیان کے بعد کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے اور فائرنگ کے واقعات میں رینجر اہلکار سمیت 12افراد ہلاک اور 19زخمی ہوگئے۔23 گاڑیاں بھی جلادی گئی ہیں جبکہ ہنگامہ آرائی کے الزام میں 11 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں جلاوگھیراواورفائرنگ کاسلسلہ تاحال جاری ہے۔گلشن اقبال کے علاقے مسکن کے قریب رینجرز کے اہلکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ناظم آباد ،کورنگی ،یوپی موڑ، نارتھ کراچی، گلشن اقبال ،فیڈرل بی ایریا اور ابوالحسن اصفحانی روڈ پر ایک درجن سے زائدگاڑیوں کونامعلوم افراد نے نذرآتش کردیا۔جبکہ بڑابورڈسمیت بعض علاقوں میں کئی دکانوں کوبھی آگ لگادی گئی۔جبکہ ناظم آباد،گولیمار،لیاقت آباد اور شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ جاری ہے اور ایسی ہی صورتحال اولڈسٹی ایریاز،،فیڈرل بی ایریا،ابوالحسن اصفہانی روڈ اور انچولی سوسائٹی کے علاقے میں ہے۔جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے، فائرنگ سے حسین آبادمیں ایک خاتون جاں بحق ہوئی جبکہ بلدیہ ٹاون،سرجانی ٹاون، شیر شاہ پراچہ چوک،،گھانچی پاڑہ ،شاہ راہ قائدین اورلیاقت آباد میں دیگرافرادنشانہ بنے۔کئی افرادزخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں سرکاری ونجی اسپتالوں میں منتقل کرکے طبی امداد دی جارہی ہے۔رات گئے فائرنگ اورجلاوگھیراوکے سبب دکانیں،چائے کے ہوٹل، میڈیکل اسٹور ،سی این جی پمپ اورپیٹرول پمپ بندکردیے گئے تھے۔کشیدہ علاقوں میں حالات پر قابو پانے کے لیے رینجرز اہلکاروں نے فلیگ مارچ بھی کیااورکئی مبینہ شرپسندوں کوگرفتار کرکے اسلحہ برآمدکرنے کادعوی کیاگیاہے تاہم صورتحال اب بھی معمول پرنہیں آئی۔
مہاجر رابطہ کونسل نے ذوالفقار مرزا کے بیان پر رحمن ملک کی معافی مسترد کردی کراچی…مہاجر رابطہ کونسل نے سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیان پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے معذرت کو مستردکرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقارمرزابراہ راست ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین سے معافی مانگیں۔مہاجر رابطہ کونسل کے جنرل سیکریٹری ارشد صدیقی کاکہنا ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیان پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے معافی قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے کارکنان چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا براہ راست ایم کی ایم کے قائدالطاف حسین سے معافی مانگیں۔انہوں نے صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیر مین آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ذولفقار مرزا کو انکے عہدوں سے ہٹایا جائے اور اگرایسانہ کیا گیا صورتحال کے ذمہ دار آصف علی زرداری ہونگے۔
ذوالفقار مرزاکے بیان سے پختون عوام کاکوئی تعلق نہیں ،اے این پی کراچی…عوامی نیشنل پارٹی .سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ قیام امن کی مکمل ذمے داری سیاسی جماعتوں،عوام سے زیادہ میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔حالات اور موقع کی نزاکت کا ادراک صحافیوں سے زیادہ کوئی نہیں کرسکتا۔تمام اداروں کو اپنے فرائض کا ضابطہ اخلاق خود پر لاگو کرنا امن و امان کی بہتری کیلئے ایک اہم ضرورت ہے ۔ ترجمان نے سندھ بھر میں ایک بار پھربے گناہ انسانوں کی قیمتی جانوں کے نقصان اور ٹرانسپوٹ و املاک کی آتش زنی اور ہنگامہ آرائی کے واقعات پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہ حیثیت مسلمان احکامات نبوی کے مطابق کہ’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اورزبان سے دوسرا انسان محفوظ رہے‘کو خود پر لاگو کرنا ہوگا۔پر تشدد رجحانات سے عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوچکا ہے۔ عوام سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل میں کمی کے بجائے اضافے کا سبب سمجھنے لگے ہیں۔میڈیا میں بے لاگ تبصروں کو عوام خدمت کے بجائے زحمت سمجھنے لگے ہیں۔اظہار رائے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے اور ایسی حق کے حصول کیلئے میڈیا اور عوام نے بے بہا قربانیاں دیں ہیں۔ ترجمان نے صوبہ سندھ کے سینئر وزیر ڈاکڑ ذوالفقار مرزا کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صوبائی صدر شاہی سید کی جانب سے سندھ کی پارلیمانی جماعتوں کے رہنماوٴں کو کمشنری نظام کی بحالی کی خوشی میں عشائیہ دیا گیا تھا۔جس میں آنے والے تمام مہمان اس بات کا ادراک رکھتے تھے کہ تقریب کا مقصد محض خوشی کا اظہار ہے اور ڈاکٹر دوالفقار مرزا بھی شاہی سید کے مہمان تھے۔میڈیا کے مخصوص صحافیوں کی ضد اور موقع و حالات کے بر خلاف سوالات پر موصوف نے غیر متوقع طور پر سخت لب و لہجہ اختیار کیا جس کا عوامی نیشنل پارٹی اور پختون عوام سمیت کسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وزیر موصوف کا اپنا ذاتی فعل تھا۔عوامی نیشنل پارٹی پاکستان میں رہنے والی تمام قومیتوں کو عزت و احترام سے دیکھتی اور تسلیم کرتی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوٴں نے سب سے پہلے اردو بولنے والوں کی سماجی حیثیت کو تسلیم کرکے لسانی فسادات کی تمام سازشوں کو دفنا دیا تھا۔خان عبدالولی خان کے پرچارک آج بھی ایسی اردو بولنے والوں کی قیام پاکستان کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو خلوص دل سے تسلیم کرتے ہیں۔گذشتہ چند دنوں سے جس طرح پشتو اور اردو بولنے والوں کے دل میں سندھی عوام کے لئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اپنی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ سے اپیل ہے کہ عوام کے جذباتی ردعمل میں پختون ، پنجابی، بلوچ اور دیگر قومیتوں کے بے گناہ عوام کونقصان نہ پہنچے۔احتجاج عوام کا جمہوری حق ہے اور اظہار رائے بنیادی حق ہے لیکن بے گناہ عوام کے جانی و مالی نقصان سے باہمی اخوت و بھائی چارے کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
کراچی: عوامی ردعمل کے پیش نظر ذوالفقار مرزاکے گھر جانیوالے راستے بند کراچی…کراچی میں ذوالفقار مرزا کے گھر جانے والے تمام راستے رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیئے گئے ہیں۔جیو نیوز کے نمائندے خصوصی افضل ندیم ڈوگر کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے دیئیگئے عشائیے میں انکے بیان کے بعد رد عمل کے طور پر کلفٹن کے علاقے سب میرین چورنگی پر ہزاروں افراد جمع ہوئے جو ممکنہ طور پر ذوالفقار مرزا کے گھر کی جانب مارچ کرنا چاہتے ہیں، اسی اثناء میں مہاجر رابطہ کونسل کا یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں ذوالفقار مرزا کی معافی مسترد کرتے ہوئے ان سے 48گھنٹوں میں کراچی چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس نے ذوالفقار مرزا کے گھر جانے والی سڑکیں رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردی ہیں۔
ذوالفقار مرزا کی معذرت، سادے کاغذ پر ہاتھ سے لکھا بیان جاری کراچی…پیپلز پارٹی سندھ کے سینئرنائب صدرڈاکٹرذوالفقار مرزا نے محکمہ اطلاعات اور پیپلزمیڈیا سیل سے جاری تحریری اعلامیے میں اپنے بیان پر معذرت کرلی ہے۔محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری شدہ سادہ تحریری اعلامیے میں سینئر صوبائی وزیرڈاکٹرذوالفقار مرزاکی جانب سے کہاگیا ہے کہ گزشتہ روز دیا جانے والا بیان ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ،اس کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا پھر بھی اگر کسی کی دل آزاری ہوئی تووہ تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ اردو بولنے والے ہمارے بھائی تھے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے لئے انہوں نے بھی قربانیا ں دی ہیں جبکہ ہجرت کرکے پاکستان بالخصوص سندھ آباد ہونیوالوں کو ہمارے بڑوں نے سینے سے لگایا اور تب سے ہم مل کر ایک ہی خاندان کی طرح رہ رہے ہیں۔ڈاکٹرذوالفقار مرزا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بیان میں انہوں نے اس خاص سوچ کی جانب نشاندہی کی تھی جو صوبہ سندھ میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو موت کی بھینٹ چڑھارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقاء اسی میں ہے کہ آپس کی رنجشوں کو بھلا کر مفاہمت کی راہ اختیارکی جائے۔پیپلز میڈیا سیل کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئرنائب صدر ذوالفقار مرزا کا گزشتہ رات بیان ذاتی رائے تھی پارٹی پالیسی نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169