9 جولائی 2011 - 19:30

انسانی حقوق کے لۓ سرگرم بین الاقوامی کارکنوں کے خلاف صہیونی ریاست کے غیر انسانی اقدامات میں شدت پر عالمی راۓ عامہ کی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

ابنا: واضح رہے کہ صہیونی ریاست یہ غیر انسانی اقدامات یورپی حکومتوں کی پشت پناہی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔ فلسطینی عوام کی منتخب حکومت کے ترجمان طاہر النونو نے غزہ میں کہا ہے کہ یورپی حکومتوں کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کے غزہ پٹی جانے کی مخالفت نیز غزہ پٹی کی جانب کاروان آزادی دو کی حرکت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کۓ جانے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ وہ علانیہ طور پر صہیونی ریاست کی حمایت کررہی ہیں۔ طاہر النونو نے مزید کہا کہ یورپی حکومتوں کے اقدامات سے اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ انسانی حقوق اور آزادی کے بارے میں ان کے دعوے کھوکھلے ہیں۔

طاہر النونو نے انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والے افراد کی جانب سے ملت فلسطین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کۓ جانے اور دنیا کے مختلف ممالک سے انسانی دوستی پر مبنی امداد غزہ پٹی لے جانے کی کوشش کو سراہتے ہوۓ اس بات پر تاکید کی کہ ان کوششوں سے غزہ پٹی کے باشندوں کے خلاف لگائي جانے والی ظالمانہ پابندیوں کی مخالفت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے لۓ سرگرم بین الاقوامی کارکنوں نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست نے غزہ پٹی کےباشندوں کے خلاف جو پابندیاں لگائي ہیں ان کا دائرہ یورپی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ انسانی حقوق کے ان کارکنوں نے برلن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزر لینڈ کی ایئر لائنز سمیت یورپی ایئر لائنز نے صہیونی ریاست کے کہنے پر ہی مقبوضہ فلسطین جانے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کو اپنے طیاروں پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔

انسانی حقوق کی انٹر نیشنل لیگ کی جرمن شاخ کے سربراہ فانی مشائیلا نے صہیونی ریاست کے اقدامات پر تنقید اور ممالک میں لوگوں کے داخل اور خارج ہونے کے معاہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا ہے کہ یورپی حکومتیں اسرائیل کے احکامات کی وجہ سے غیر قانونی حکومتوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ فانی مشائیلا نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایئر لائنز کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے حربے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ یوں اسرائیل نے غزہ کے محاصرے کا دائرہ یورپ تک پھیلا دیا ہے۔ " فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی" نامی سول آرگنائزیشن نے بھی اسکاٹ لینڈ میں ایک بیان جاری کر کے یورپی حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کیۓ جانے کی مذمت کی ہے ۔ اس بیان میں آيا ہے کہ فلسطین ایک بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اور اسرائیل یورپی ممالک کی حمایت کے ذریعے ملاقاتیوں کو اس بڑی جیل میں قیدیوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروان آزادی دو میں شامل انسانی حقوق پر مبنی امداد لے جانے والے بحری جہازوں کی غزہ پٹی جانے کی روک تھام کریں ۔

صہیونی ریاست کے اس مطالبے کے بعد یورپی ممالک نے انسانی حقوق کے کارکنوں کے غزہ جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کردیا۔ یورپی حکومتوں اور اسرائیل کے اقدامات عالمی سطح پر ان کی اپنی رسوائي کا باعث بنے ہیں۔ فلسطین کی قومی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ کاروان آزادی دو میں شامل انسانی حقوق کے کارکن عالمی راۓ عامہ کی توجہ غزہ کی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوگۓ ہیں۔مصطفی برغوثی نے کہا ہے کہ کاروان آزادی دو نے دنیا والوں پر صہیونی ریاست کی غاصبانہ ماہیت کو واضح اور ملت فلسطین کے ساتھ عالمی یکجہتی میں اضافہ کردیا ہے۔ مصطفی برغوثی نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ صہیونی ریاست غزہ پٹی کا محاصرہ یورپی ساحلوں تک بڑھا کر دہشتگردانہ اقدام انجام دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169