30 جون 2011 - 19:30

کراچی میں سرفراز شاہ کو رینجرزاہلکاروں نے بے نظیر بھٹو پارک میں سر عام گولیاں ماریں،،،لیکن اس کے باوجود ملزمان کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگردی کا مقدمہ نہیں ہے۔

ابنا: انسداد دہشتگردی کی عدالت میں وکیل صفائی نے کہا کہ سرفراز شاہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پارک میں موجود ایک فیملی کو لوٹا،جنھوں نے اس کی شکایت کی،سرفراز شاہ کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جبکہ اس کے ساتھی فرار ہوگئے، رینجرز نے اسے بیٹھنے کو کہا تو اس نے ان کی گن پکڑلی، جس پر رینجرزاہلکار سمجھا کہ سرفراز شاہ گن چھین لے گا۔ وکیل صفائی نے کہا کہ سرفراز شاہ کی موت زیادہ خون بہہ جانیسے ہوئی یہ دہشتگردی نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت