ابنا: طالبان نے غیر ملکیوں اور افغان حکام سمیت 50 افراد کو ہلاک کرنیکا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم وزارت داخلہ نے چھ شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔جنوری 2008 میں کابل کے سیرینا ہوٹل پر حملے کے بعد اب انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل طالبان کے بدترین حملے کا نشانہ بنا۔ یہ کابل کے دو بڑے ہوٹلوں میں سے ایک ہے جہاں پورے افغانستان سے آئے ہوئے اہم سرکاری عہدے دار اور غیر ملکی شخصیات مقیم تھیں۔ انہیں سول اور فوجی ذمے داریوں کی افغان حکومت کو منتقلی سے متعلق آج شروع ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنی تھی۔ تاہم کانفرنس کے آغاز سے پہلے رات گئے پانچ سے چھ حملہ آوروں نے سیکیورٹی انتظامات کو ناکام بناتے ہوئے ہوٹل پر دھاوا بولا۔ ایک خودکش بمبار نے دھماکا کیا اور باقی حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر گھس گئے۔ حملے کے وقت ہوٹل میں شادی کی تقریب بھی ہورہی تھی۔ کابل پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن چیف محمد ظاہر کے مطابق حملے میں کئی سِکیورٹی اہل کار زخمی ہوئے اور خود ان کی ٹانگ میں بھی گولی لگی۔ سیکیورٹی فورسز نے ہوٹل کوگھیرے میں لے کر حملہ آوروں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔ اس دوران وقفے وقفے سے تین زور دار دھماکے ہوئے اور ہوٹل کے ایک حصے میں آگ بھی لگ گئی۔ اتحادی فوج کے ترجمان میجر ٹیم جیمز کے مطابق آپریشن میں مدد دینے کے لئے دو ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے جنہوں نے فائرنگ کرکے ہوٹل کی چھت پر موجود دو حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔ حملے کے پانچ گھنٹے بعد افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ تمام حملہ آور مارے گئے۔ 6 شہریوں کی لاشیں بھی ملیں جو ہوٹل کے ملازم معلوم ہوتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق چار حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ طالبان نے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 50 افراد مارے گئے جن میں غیر ملکی اور افغان حکام بھی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز