ابنا: لیکن سپر پاور کی جانب سے غیر مسلح ڈرون طیاروں کی فراہمی کی پیش کش پر اسے مایوسی ہوئی۔اٹھائیس جولائی دو ہزار چار کو بھیجے گئے خفیہ مراسلے میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جون ابی زید اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہداور مسلح افواج کے سربراہ شیخ محمد بن زائد بن سلطان النہیان کی ابو ظہبی میں ہونے والی ملاقات کا ذکر ہے۔جس میں خطے کی سلامتی کی صورتحال پرتبادلہ خیال کے دوران ولی عہد نے کئی بارمسلح ڈرون طیاروں کے حصول پر بات کی۔لیکن امریکا کی جانب سے مثبت رد عمل سامنے نہ آنے پرانہیں شدید خفت اور مایوسی ہوئی تھی۔مراسلے کے مطابق متحدہ عرب امارات کا موٴقف تھا کہ ملک کے طول و عرض کے علاوہ سمندری حدود کی حفاظت کیلئے ہتھیاروں سے لیس جاسوس طیاروں کی ضرورت ہے۔خفیہ مراسلے سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے یو اے ای، پہلی خلیج جنگ کے بعد سے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر رہاتھا۔ اورامریکا کی جانب سے انکار کے بعد اس کا رخ دوسرے ممالک کی جانب ہوگیاتھا۔جبکہ دو ہزار سات میں یو اے ای کی حکومت نے ابو ظہبی UAV انوسٹمنٹ کمپنی قائم کی جس نے دو ہزار دس میں اپنا پہلا جاسوس طیارہ اسمارٹ آئی تیار کیا۔جو ایک سو پینتیس گھنٹے تک ری فیولنگ کے بغیر پرواز کی صلاحیت رکھتاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز