27 جون 2011 - 19:30

کراچی…رفیق مانگٹ…ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاجوہری ہتھیارامن کی ضمانت ہیں،مجھے یقین ہے کہ آئندہ کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔

 ابنا: پاکستان کے جوہری اثاثوں کو نہ ماضی میں نہ اب اور نہ مستقبل میں کوئی خطرہ ہوگا۔ سیکورٹی اجزاء کا کسی کے پاس چلے جانا اور بم کو حاصل کرنا ناممکن ہے، اے کیو خان نیٹ ورک نام کی کوئی چیز ہی نہیں،میری پیٹھ پر ان لوگوں نے خنجر گھونپا جنہوں نے میرے کام سے فائدہ اٹھایا۔جرمن جریدے SPIEGEL سے انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو انتہا پسند وں سے کوئی خطرہ نہیں۔ یہ پروپیگنڈا مغرب کا پھیلایا ہوا ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو نہ ماضی میں نہ اب اور نہ مستقبل میں کوئی خطرہ ہوگا۔پاک فوج کے تحت 1980 سے ان اثاثوں کی حفاظت کا ایک مکمل اور مربوط نظام ہے۔ایٹمی اثاثوں کی سیکورٹی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ہاتھ میں ہے جہاں ایک نظام کے تحت فیصلہ سازی ہوتی اور فیصلے سے متعلقہ افراد خصوصی سیکورٹی کوڈ رکھتے ہیں۔تمام سیکورٹی اجزاء کا کسی کے پاس چلے جانا اور بم کو حاصل کرنا ناممکن ہے حتی کہ کو ئی انتہا پسند بھی گھس آئے تب بھی ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی لیبیا ، ایران اور شمالی کوریا کوجوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور اس کے پھیلاوٴ ملوث نہیں رہا اور اے کیو خان نیٹ ورک نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ بین الاقوامی سپلائرز پیسے کے بدلے کسی کو بھی کچھ فروخت کر سکتے ہیں ان کو میری ضرورت نہیں۔لیبیا اور ایران کو سازوسامان فراہم کنندگان وہی لوگ ہیں جن سے خان ریسرچ لیبارٹریز سازوسامان خریدتی تھی۔ہمارا شمالی کوریا سے میزائلوں کی پیداوار کا ایک معاہدہ تھا۔جن کا پہلے سے پلوٹونیم کی پیداوار کا پروگرام موجود تھا اور انہوں نے اپنے ٹیسٹ کے طریقہ کار میں پلوٹونیم کو استعمال کرنا تھا۔ ہمارے پروگرام کی لاجسٹکس اور سیکورٹی فوج کے ہاتھ میں تھی اورہر چیزجو آتی یا باہر جاتی ہے اس کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، فوج کے علم کے بغیر کسی بھی ملک کو میں کیسے کوئی چیز بھیج سکتا تھا۔ میں نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کے لین دین یا ان سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی فوج کا اسپیشل پلان ڈویژن جس کے ساتھ میں نے کام کیا ۔کیا وہ آج مجھے ماہانہ خصوصی پنشن دیتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سات سال قبل میں نے پرویز مشرف کے دور میں ٹیلی ویژن پر عوام کے سامنے اس پورے ڈرامے کا الزام سیاسی قیادت کے دباوٴ پر اپنے سر لیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے مجھ سے مکمل بحالی کے ساتھ ایک مکمل معافی کا وعدہ کیا تاہم چند دن کے بعد اس نے تنگ کرنا شروع کر دیا اور مشروط معافی چاہتا تھا۔ہمارے گھر کی تلاشی لی گئی ، فون اور انٹرنیٹ کنکشن منقطع کئے گئے۔اس سوال پر کہ آپ کو دھوکا دیا گیا،ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ دھوکا مناسب لفظ نہیں ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے میری پیٹھ پر خنجر گھونپا جنہوں نے میرے کام سے فائدہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی تجربات بھارتی ٹیسٹ اور سیاسی جارحیت کے جواب میں کیے۔جوہری ہتھیاروں کی ڈیٹرنس کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق جانتے ہیں کہ دوسری طرف سے بھی ویسی ہی جوابی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اگر دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو امریکا کبھی بھی ایٹم بم سے حملے کی ہمت نہ کرتا۔اس کے بعد1945سے یورپ میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔1971کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی کارگل صرف ایک معمولی جھڑپ تھی اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا مسئلہ کبھی پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم نادان نہیں ہیں دونوں فریق جانتے ہیں کہ کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔جریدے کے اس سوال پر کہ اگریہ جوہری ہتھیار پاکستان کے پاس نہ ہوتے تو پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک نہ سمجھا جاتا کیا آپ کو بم بنانے پر افسوس ہے اسپر ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ مجھے اب بھی یقین ہے کہ میں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔ جوہری ہتھیارامن کی ضمانت ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت