1958میں میانوالی کے ایک گاؤں کے غریب خاندان کے صوبیدار مہر خان کے گھر پیدا ہونے والے علی خان نے انیس سو اناسی میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔وہ اپنے گولڈ میڈل اور شاندار سروس ریکارڈ کے باعث پاکستانی فوج کے ’بہترین‘ افسران میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنے ریکارڈ کے مطابق وہ تقرریوں اور ترقیوں کی دوڑ میں نمایاں حیثیت میں کامیابی کی منازل طے کرتے رہے یہاں تک کہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر نام نہاد دہشت گرد حملے ہوئے جن کے بارے میں اب تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی اور جب گذشتہ سال ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 11 ستمبر کے بارے میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تو نہ صرف امریکی صدر اور ان کا وفد برا مان گئے بلکہ برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک کے تابع و بے ارادہ ممالک کے وفود بھی برا مان کر اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔بہر حال امریکہ نے تحقیق کئے بغیر طالبان اور القاعدہ کو ملزم ٹہرایا اور القاعدہ والوں نے بھی اپنے آقا امریکہ کے دعوے کی تصدیق کردی جس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کردی اور پاکستانی فوج کے کمانڈر آمر پرویز مشرف نے امریکی وزیر خارجہ کے ایک ٹیلی فون کال پر امریکہ کو افغانستان میں فوجی کارروائی کے لیے فوجی تعاون فراہم کرنا شروع کر دیا۔بریگیڈیئر علی خان اس وقت کوئٹہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں کورس کررہے تھے جس کے بعد ان کی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی تقریباً یقینی تھی۔ بری فوج کے سربراہ اور پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کوئٹہ پہنچے اور سٹاف کالج سے خطاب کیا۔ سوال و جواب کی نشست شروع ہوئی۔ بریگیڈئر علی خان نے مائیک سنبھالا اور تقریر نما سوال داغ دیا۔لُبِّ لُباب اس جذباتی تقریر کا یہ تھا کہ جنرل مشرف کو وہ معاہدہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے جس کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ اس تعاون کی حدود و قیود کا واضح تعین ہونا چاہیے۔اس روز سٹاف کالج میں موجود ایک سینئر افسر کے بقول جنرل مشرف نے اجلاس ختم ہونے کے بعد بریگیڈیئر علی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد بورڈ ہوا لیکن بریگیڈیئر علی کو ترقی نہیں ملی اور وہ بریگیڈیئر ہی رہے۔ ہاں مگر ان کے کے ساتھی ترقی پا کر پہلے میجر اور پھر لیفٹینٹ جنرل بن گئے۔سب کو توقع تھی کہ پاکستانی فوج کا یہ سینئر ترین بریگیڈییئر اب ریٹائرمنٹ لے ہی لے گا۔ لیکن علی خان نے کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ نہیں لیں گے بلکہ فوج میں رہتے ہوئے اپنا کام کرتے رہیں گے۔وہ فوج میں کیا کام کرنا چاہتے تھے؟ بریگیڈیئر علی نے باقاعدگی سے اپنے ان سینئر افسران کے ساتھ خط و کتابت شروع کر دی جو فوج میں کلیدی عہدوں پر فائز تھے۔ مضمون میں تو فرق ہوتا تھا لیکن ان خطوط تک رسائی رکھنے والے ایک سے زیادہ افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ بریگیڈیئر علی کی ان تحریروں کا موضوع ایک ہی تھا ’خود انحصاری اور امریکی امداد سے نجات‘بریگیڈیئر علی خان نے ان تحقیقی مقالات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستانی فوج کا امریکی پر بڑھتا ہوا انحصار اس ادارے کی کمزوری اور درمیانی اور نچلے سطح کے افسران میں بے چینی اور بددلی کا باعث بن رہا ہے۔بریگیڈیئر علی کی ماتحتی میں کام کرنے والے پاکستانی فوج کے ایک سینئر افسر جو اس وقت ایک کلیدی عہدے پر کام کر رہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے جب دیکھا کہ اب کے دوست اور سابق افسر کے خطوط کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی اس سلسلے کے ختم ہونے کے خواہشمند ہیں، تو اشفاق پرویز کیانی نے دبے لفظوں میں علی خان کو باور کروانے کی کوشش کی کہ وہ یہ کام نہ کریں۔’لیکن علی نے ہماری باتوں کو زیادہ وزن نہیں دیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو صحیح مشورہ دیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ جب ہم نے زیادہ اصرار کیا تو ان کی کہنا تھا کہ ان سے رائے مانگی جاتی ہے اس لیے وہ دیتے ہیں‘۔اس افسر نے تاہم کہا: مجھے اور ان کے ساتھیوں کو معلوم تھا کہ بریگیڈیئر علی کی رائے نہ طلب کی جاتی ہے اور نہ ہی زیر غور لائی جاتی ہے۔بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ علی خان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھی ان ہی موضوعات پر ایک طویل مراسلہ لکھ دیا۔ اس میں بریگیڈیئر نے پانچ اقدامات تجویز کیے جن پر عمل کر کے، ان کے بقول پاکستان کو ایک خود انحصار مملکت بنایا جا سکتا تھا اور امریکی’غلامی‘ سے نجات حاصل کی جا سکتی تھی۔ جن میں اعلیٰ حکام کی مراعات میں کمی، جس میں ارکان پارلیمنٹ، سیاسی حکمران، بیورکریسی اور فوجی افسران کو دی جانے والی مراعات بھی شامل تھیں۔ مختلف مراحل سے ہوتا ہوا یہ خط بھی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی میز تک پہنچا۔پھر دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی ہوئی۔ بریگیڈیئر علی کے ساتھ کام کرنے والے بعض افسران کا کہنا ہے کہ اس روز سے بریگیڈیئر علی سخت غصے کے عالم میں تھے اور انہیں اپنا یہ غصہ نکالنے کا موقع اس وقت ملا جب ان کے سابق شاگرد اور موجودہ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال نے پانچ مئی کو اپنے زیر کمان افسروں کا اجلاس طلب کر کے اس معاملے پر مشاورت کی۔جی ایچ کیو میں ہونے والی اس مشاورت میں ایک درجن سے زائد سینئر افسران شریک ہوئے۔ پاکستانی فوج میں نظم و ضبط کے ذمہ دار ایڈجوٹنٹ جنرل جاوید اقبال کا سوال یہ تھا کہ اس واقعے کی کن خطوط پر تفتیش کی جائے۔علی خان کی شمولیت سے پہلے تک گفتگو ان ہی خطوط پر چلتی رہی جیسا کہ ’باس‘ کی خواہش تھی۔ پھر اس سینئر موسٹ بریگیڈیئر نے گفتگو کا رخ خود احتسابی کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب اجلاس ختم ہوا تو دو کے سوا تمام افسران بریگیڈیئر علی خان کے مؤقف کے حامی ہو گئے، وہ بھی جو ابتدا میں جنرل جاوید کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔اگلے روز کور کمانڈرز کانفرنس تھی۔ جنرل جاوید نے یہ سارا معاملہ پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کے گوش گزار کر دیا، جیسا کہ ان کے فرائض میں شامل تھا اور اسی شام بریگیڈیئر علی کو حراست میں لے لیا گیا۔واہ بھئی!بریگیڈیئر علی کے خلاف حزب التحریر کے ساتھ روابط کےحق میں بعض واقعاتی شہادتیں جمع کر لی گئی ہیں لیکن ان شہادتوں کو ثابت کرنے کے لیے گواہان ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکے۔ (لگتا ہے کہ جہاں حزب التحریر کے ساتھ روابط کا الزام ملا وہیں سے گواہان بھی آخرکار مل ہی جائیں گے!)۔بی بی سی والے لکھتے ہیں کہ: بریگیڈیئر علی کے ساتھ، ان کے اوپر اور نیچے کام کرنے والے بہت سے افسران ان کے امریکہ مخالف خیالات سے متفق نہیں ہیں! تاہم بی بی سی ہی کے مطابق بہت سوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا شاید ہی کوئی افسر یہ تسلیم کرے کہ بریگیڈیئر علی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتے ہیں اور یہ کہ خود انحصاری کے بارے میں ان کے خیالات پاکستانی فوج کے اوسط سطح کے افسروں گزشتہ کچھ عرصے میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہے تھے، خاص طور پر دو مئی کے بعد سے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاک فوج پاکستانی عوام ہی کی فرزند ہے اور پاکستان کی پوری قوم امریکی غلامی کے خلاف ہے اور ان سب کی رائے بریگیڈئیر علی کی رائے ہے اور گوکہ بوڑھے استعمار کی صدا "بی بی سی" میں بریگیڈیئر علی کے بارے میں ماضی بعید کے صیغے استعمال ہوئے ہیں جیسے "ان کے خیالات پاکستانی فوج کے اوسط سطح کے افسروں گزشتہ کچھ عرصے میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہے تھے" وغیرہ، لیکن اگر امریکہ اور اس کے مفادات کے پاکستانی چوکیدار سمجھتے ہیں کہ بریگیڈئیر علی کی گرفتاری سے ان کا مسئلہ حل ہوگیا ہے تو وہ غلطی پر ہیں کیونکہ بریگیڈئیر علی ایک فکر کے ترجمان ہیں اور یہ فکر پاک فوج میں عرصہ قبل پیدا ہوگئی ہے جو پاکستان کی عظمت کے خواہاں ہے اور اس فکر کو دکھ ہے کہ امریکہ اور اس کے مفادات کے چوکیداروں کے ہاتھوں اس فوج کو دہشت گردوں کے سامنے اتنی خفتیں کیوں اٹھانی پڑیں؟ پاکستان اپنے مفاد میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار کیوں نہیں رکھتا؟ پاکستان کو اپنے لئے بنیادی ضروریات کی خریداری تک کے لئے امریکی سفیر یا سفیرنی کے حکم کا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟ اور ہزاروں بے جواب سوالات اور ۔۔۔۔ جو اٹھائے جارہے ہیں۔
اصل رپورٹ بی بی سی اردو سے لی گئی ہے
۔۔۔۔۔
- بریگیڈیئر علی اور دیگر افسران کی گرفتاری، وجوہات کیا ہیں
/110