اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے نائب فوجی کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ قومی سلامتی کی عدالت ـ جو ایک فوجی عدالت ہے اور اس میں ملزموں کو وکیل رکھنے کا حق حاصل نہیں ہے ـ نے بدھ کے روز بحرین کی عوامی تحریک کے راہنماؤں اور سرگرم افراد کو مختلف قسم کی سزائیں دی ہیں اور خلیفی حکمرانوں نے انہیں "دہشت گرد" قرار دیا ہے۔ 10افراد کو پندرہ سے لے کر دو برس تک کی قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین میں عوام جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں اور اپنے حقوق کو بحال کرنے کے لئے بحرینی عوام کے پرامن مظاہرے جاری ہیں جبکہ امریکہ اور سعودی عرب ملکر بحرین میں جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔خلیفی فوجی عدالت نی جمعية الوعد کے سنی قائد، حرکة الحق کے شیخ حسن المشیمع، تیار الوفاء کے عبدالوہاب الحسین، قانوندان اور انسانی حقوق کے شعبے کے سرگرم راہنما عبدالہادی الخواجہ اور متعدد علماء اور سیاستدانوں کو سزائیں سنائی ہیں۔ خلیفی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ سزائیں قطعی نہیں ہیں اور ملزمین کو اپیل کا حق دیا گیا ہے لیکن اپیل عدالت بھی آل خلیفہ کے اپنے قابو میں ہے اور وہاں بھی کسی کو وکیل رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ خلیفی عدالت کی طرف سے علماء اور سیاستدانوں کو سزائیں سنائے جانے کیےبعد پورے ملک میں مظاہرے ہوئے اور 21 اہم شخصیات کو سزائیں سنانے پر احتجاج کیا گیا جبکہ خلیفی اور سعودی فورسز نے عوام کو منتشر کرنے کے لئے پھر بھی تشدد کا راستہ اپنایا۔ بحرین کی سیاسی جماعتوں اور انقلابیوں نے بدھ کے روز کو قومی مقدسات سے وفاداری کا دن منایا اور دوسری طرف سے سعودی اور خلیفی فورسز سڑکوں پر قابض رہیں تاہم عوام نے مظاہرے کئے اور احتجاجی ریلیاں نکالیں اور آج جمعرات کو بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔............../110 - 169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز