20 جون 2011 - 19:30

عراقی پارلمینٹ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے نام ایک خط ارسال کر کے امریکی اداروں اور کمپنیوں پر عراقی تیل کی رقم چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس بین الاقوامی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تیل کا چوری شدہ پیسہ واپس دلانے کے لیے عراق کی مدد کرے۔

ابنا: عراقی پارلیمنٹ کی مالی بدعنوانی کا مقابلہ کرنے والی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی کمپنیوں نے عراقی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی سترہ ارب ڈالر کی رقم کہ جو اس ملک کی تعمیرنو پر خرچ ہونی چاہیے تھی، خوردبرد کر لی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے نام پچاس صفحات پر مشتمل خط میں امریکہ کی جانب سے عراقی دولت کی چوری کو مالی جرم قرار دیا ہے۔اس سے قبل عراقی کی تعمیرنو کے امدادی فنڈ کے نگران، خصوصی امریکی آڈیٹر اسٹوارٹ بوئن نے بھی کہا تھا کہ اس امدادی فنڈ کے بجٹ میں سے چھ ارب ڈالر غائب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے امریکی وزارت دفاع کو عراق کے خوردبرد ہونے والے پیسوں کا پتہ لگانے سے چشم پوشی کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق عراق کی تعمیر نو کے فنڈ میں سے غائب ہونے والے پیسے اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ جس کا اعلان امریکی آڈیٹر نے کیا ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کی تعمیرنو کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے اٹھارہ ارب ڈالر سے زائد رقم غائب ہوئی ہے۔ عراق نے اس کا الزام امریکہ پر لگایا ہے اور عراقی حکام نے امریکی اداروں کو کہ جن میں سے بعض واشنگٹن کے اعلی حکام سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے پاس عراق میں بڑے بڑے تعمیراتی پروگراموں کے ٹھیکے ہیں، عراقی دولت لوٹنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود عراق اس کی دولت لوٹنے والے ان امریکی اداروں اور کمپنیوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔ عراقی حکومت عراق کے خلاف سلامتی کونسل کی مختلف قراردادوں کو اس ملک کی دولت لوٹنے والے امریکیوں کے خلاف قانونی اقدام کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے اس لیے عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں مدد طلب کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت