19 جون 2011 - 19:30

سعودی عرب میں انڈونیشیا کے ایک باشندے کو پھانسی دیے جانے کے بعد انڈونیشیا کی حکومت نے ریاض سے اپنے ملک کے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

ابنا: انڈونیشیا کے وزیر خارجہ مارتی ناتالگاوا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا نے ریاض سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے جکارتہ میں سعودی عرب کے سفیر کو بھی طلب کیا ہے۔ ناتالگاوا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کا خیال نہیں رکھا ہے، مزید کہا کہ انڈونیشیا کو اس کے شہری کی پھانسی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گيا۔ انڈونیشیا کی ایک ملازمہ کو اس کے مالک کی بیوی کو قتل کرنے کے جرم میں ہفتے کے روز مکہ میں پھانسی دی گئي۔سعودی عرب میں غیرملکیوں کے سعودی کفیلوں کا اپنے ملازمین کے ساتھ رویہ نامناسب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت