اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراق کے مفتی شیخ مہدی بن احمد الصمیدعی نے وزیر اعظم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو ممالک اور اقوام عراق کے مشکل دور، بالخصوص داعش کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ کھڑے رہے، وہ انصاف اور وفاداری کے مستحق ہیں۔
انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی، سماجی اور اقتصادی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
الصمیدعی نے عراق اور ایران کے درمیان پروازوں کی معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی فیصلوں کے نتائج عام شہریوں، مریضوں، طلبہ اور زائرین پر نہیں ڈالے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ عراق کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے، لیکن خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ عراق دوسروں کے مطالبات پر عمل درآمد کا میدان بن جائے یا عراقی عوام کو ایسے تنازعات کی قیمت چکانا پڑے جو ان کے مفاد میں نہیں۔
مفتی عراق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی، مذہبی، طبی اور تعلیمی معاملات میں خصوصی رعایتیں یقینی بنائی جائیں اور عراقی ہوائی اڈوں کو اقوام کے خلاف دباؤ کے آلے میں تبدیل نہ کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ عراق کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہے، وہ کم از کم انصاف، وفاداری اور شائستہ رویے کے مستحق ہیں، جبکہ کسی بھی ملک کے شہریوں کو حکومتوں کے سیاسی اختلافات کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا: عراق اولاً، عراق کی خودمختاری اولاً، عوام کا مفاد اولاً اور سب کے ساتھ انصاف ہمارا راستہ ہے۔‘‘
آپ کا تبصرہ