ابنا: بلوچستان میں مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کے حق میں ڈاکٹروں کی جزوری ہڑتال کا سلسلہ دو ماہ سے زائد عرصہ قبل شروع ہوا تھا جو کہ اب سنگین شکل اختیار کر چکا ہے ، پہلے سرکاری اسپتالوں میں میں یہ ہڑتال کی جارہی تھی اور تین روز قبل وزیر اعلی ہاوس کے باہر دھرنا دینے کی کوشش میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی پولیس سے مڈبھیڑ کے بعد اب نجی اسپتالوں میں بھی ہڑتال کی جارہی ہے، احتجاج کے دوران ستر سے زائد ڈاکٹروں کو گرفتارکرلیا گیا تھا جبکہ پولیس کی شیلنگ سے بیس کے قریب ڈاکٹر زخمی بھی ہوگئے تھے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈاکٹرز نجی و سرکاری اسپتالوں میں فرائض سرانجام نہیں دے رہے او پی ڈیز اور آپریشن تھیٹر بند ہیں تاہم ایمرجینسی شعبہ میں کام جاری ہے، ہڑتال کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔دوسری جانب وزیر اعلی بلوچستان کی ہدایت پر قائم پارلیمانی کمیٹی نے گذشتہ روز سینئر ڈاکٹرز سے ملاقات میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے، گرفتار ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے اور ہڑتالی ڈاکٹروں کو ملازمت پر بحال کرنے کا عندیہ دیا تھا اور اس حوالے سے سینئر ڈاکٹروں کو ینگ ڈاکٹروں سے بات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز