14 جون 2011 - 19:30

کوئٹہ… بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسٰی نے سانحہ خروٹہ ٓاباد واقعہ میں جاں بحق ہونے والے پانچ غیر ملکیوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ پر پولیس تشدد واقعہ کے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث دونوں ایس ایچ اوز کے خلاف محکمانہ کاروائی کر کے رپورٹ اگلی سماعت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

ابنا: بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ میں چیف جسٹس اف بلوچستان قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس نعیم اختر افغان نے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کا ایس ایچ او سٹی نعمت اللہ اور ایس ایچ او گوالمنڈی نصر الحسن کو وردی میں دیکھ کر اظہار برہمی کرتے ہوئے سی سی پی او کوئٹہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اپ نے انھیں اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا انھوں نے کہا کہ اپ نے ڈاکٹر باقر شاہ کے موبائل اپنے پاس کیوں رکھے ہیں جبکہ اب وہ آپ کی حراست میں نہیں چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی ہم دیکھ چکے ہیں صرف غریبوں کو تنگ کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ جو شخص گواہی کے لئے کورٹ میں پیش ہو تا ہے اس کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ پر پولیس تشدد پر از خود نوٹس کی سماعت 23جون تک ملتوی کرتے ہوئے ایس پیایس پی سٹی کو دونوں متعلقہ ایس محکمانہ کاروائی اور ایس پی انویسٹی گیشن کو واقعہ کی مکمل کاروائی سے متعلق رپورٹ اگلی سماعت میں پیش کرنے کاحکم دیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت