10 جون 2011 - 19:30

کراچی…وکی لیکس نے انکشاف کیاہے کہ دو ہزار آٹھ میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد نواز شریف نے اپنی سیکیورٹی کیلئے امریکا سے مدد مانگی تھی۔

ابنا:  اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے سیکیورٹی آفیسر نے نواز شریف کے مشیران پر واضح کیا کہ ان کیلئے امریکا یا کوئی بھی غیرملکی سیکیورٹی اسکواڈ غلط چوائس ہوگی۔ ستائس دسمبر دو ہزار سات کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے ایک ہفتے کے اندر ہی نواز شریف نے ذاتی سیکیورٹی کیلئے امریکی سفارت خانے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ چار جنوری دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے سیکیورٹی آفیسر Randall Benettنے واشنگٹن کو مراسلہ بھیجا جس میں تین جنوری کو سکندر پاشا ، کرنل جاوید عمر اور میجر مشتاق احمد سے ملاقات کی تفصیل بتائی گئی۔ ان تینوں افراد کو نواز شریف نے اپنی سیکیورٹی کیلئے نامزد کررکھا تھا۔ مراسلے کے مطابق امریکی سیکیورٹی آفیسر نے میاں صاحب کے مشیران کو بتایا کہ امریکا یا کوئی بھی غیرملکی سیکیورٹی ، نواز شریف کی صحیح چوائس نہیں، اس سے بہت سی پیچیدگیاں قائم ہوسکتی ہیں۔ امریکی سیکیورٹی آفیسر کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیاں ہر سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ امریکی سیکیورٹی آفیسر نے اس کے علاوہ بھی میاں صاحب کی سیکیورٹی کے لئے مختلف طریقوں سے راہ نمائی کی۔ مراسلے کے مطابق ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد نواز شریف کے سیکیورٹی مشیران کا کہنا تھا کہ وہ ملاقات سے پہلے میاں صاحب کی سیکیورٹی کیلئے جتنے خوفزدہ تھے ، ملاقات کے بعد نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت