8 جون 2011 - 19:30

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے ویانا میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جاپان کے فوکو شیما ایٹمی بجلی گھر کے واقعہ کے بارے میں ایک بیان پڑھا ہے۔

ابنا: اصغر سلطانیہ نے اس بیان میں اس واقعہ پر جاپان کے عوام کے ساتھ ایک بار پھر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے فوکو شیما واقعہ کے بارے میں آئی اے ای اے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی کارکردگي کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے تمام ملکوں خاص طور پر ہمسایہ ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ ایٹمی تابکاری کی آلودگي بارے میں فوری اور قابل اعتماد معلومات حاصل کریں۔ لیکن نہ تو آئي اے ای اے اور نہ ہی جاپان نے چرنوبل ایٹمی بجلی گھر کے سانحہ کے بعد منظور ہونے والے فوری ایٹمی سکیورٹی انتباہ پر مبنی کنونشن کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل جاپان میں سونامی کے باعث فوکو شیما ایٹمی بجلی گھر کے سانحہ کے بارے میں سلطانیہ کا بیان درحقیقت آئی اے ای اے کے دہرے معیارات پر کھلی تنقید ہے۔
اس وقت دنیا کے تیس سے زائد ممالک میں چار سو چالیس سے زیادہ ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے ہیں جو دنیا کی تقریبا سولہ فیصد بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اس بنا پر ایٹمی سکیورٹی اور تعاون کی سب ممالک توقع کر رہے یں اور یہ تعاون بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ درحقیقت آئي اے ای اے کو اپنے رکن ملکوں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی فنی ضروریات کے سلسلے میں جواب دہ ہونا چاہیے۔
دو ایٹمی بجلی گھروں چرنوبل اور فوکو شیما کے سانحے اس سلسلے میں دو قابل توجہ نمونے سمجھے جاتے ہیں کہ جنہوں نے یہ ظاہر کر دیا کہ تابکاری مادے بین الاقوامی سرحدیں نہیں پہچانتے اور ہر قسم کے تابکاری مادوں کا پھیلاؤ سنگین اور مہلک اثرات کا حامل ہوتا ہے۔
آئی اے ای اے کی دو اہم ذمہ داریاں ہیں ایک تو یہ کہ وہ ایٹمی سرگرمیوں پر نگرانی رکھے اور دوسری یہ کہ ایٹمی تنصیبات میں حادثات پر اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔ لیکن جیسا کہ آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے نے کہا کہ بہت سے مواقع پر اس مسئلے پر سیاسی طریقے سے عمل کیا گيا ہے۔ ان میں سے ایک موقع فوکو شیما سانحہ سے قبل جاپان میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سمیت سکیورٹی اجلاسوں اور سیمیناروں میں ایرانی ماہرین کو شرکت کرنے سے روکنا ہے۔ اسی طرح قرارداد کے بہانے ایک سیاسی اقدام کرتے ہوئے ایرانی ماہرین کو سولہ سے بیس مئی تک منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں شریک نہیں ہونے دیا گیا جو ایٹمی تنصیبات کے سلسلے میں انٹرنیٹ سکیورٹی کے خطرے کے موضوع پر منعقد ہوا تھا۔ جبکہ ایران کے خلاف سکیورٹی کونسل کی غیرقانونی قراردادوں میں ایٹمی سکیورٹی کو مستثنی قرار دیا گيا ہے۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ ایٹمی مواد کی حفاظت اور سکیورٹی اور ایٹمی خطروں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات ان جملہ اقدامات میں سے ہیں کہ جو اس بین الاقوامی ادارے پر ملکوں کے اعتماد میں اضافے اور اس کی ساکھ کو بہتر بنانے کا باعث بنیں گے۔ آئی اے ای اے کے اجلاس میں ایران کے نمائندے کا بیان بھی اسی عالمی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت