ابنا: اگرچہ بظاہر علی عبداللہ صالح کےنائب عبدربہ منصور نےیمن کاانتظام سنبھال لیا ہے۔ لیکن یمنی مخالفین ان کی مخالفت کےساتھ ہی جلدسےجلدعبوری حکومت کےقیام کےخواہاں ہيں۔ یمنی جوانوں کی کمیٹی نے جو انقلاب یمن میں پیش پیش ہے، ایک بیان جاری کرکےتاکیدکی ہےکہ جلدسےجلدعبوری قومی کونسل تشکیل دی جائے اورنیاآئين مرتب کیاجائے۔ مظاہرین کی پوری کوشش یہ ہےکہ جس طرح بھی ممکن ہوعبداللہ صالح کےفرارسےحکومت میں پیدا ہونےوالاخلاء پرکیاجائے۔ جبکہ یمن کی داخلی صورت حال مسلسل بحرانی ہے اوریمن کےمستقبل کےبارےميں تشویش پائي جاتی ہے۔ اگرچہ صالح سعودی عرب فرارکرگئےہيں لیکن ان کابیٹااحمد اب بھی یمن میں ہے۔ رپورٹوں سےیہ بھی پتہ چلتاہےکہ احمد، یمن کےصدارتی محل میں ہی موجود ہے۔درایں اثنایحی محمدصالح جوڈکٹیٹرعلی عبداللہ صالح کابھتیجہ ہےملک کی دہشتگردی مخالف فورس اور سینٹرل سیکورٹی فورس کی کمان اپنےہاتھ میں لئےہوئےہےجبکہ اس کابھائی طارق اسپیشل گارڈ کاسربراہ ہے۔اس کامطلب یہ ہواکہ یمنی فورس کاایک بڑا حصہ صالح کےقریبی افراد کےزیرکنٹرول ہے۔یہ موضوع، انقلاب یمن کےلئےایک خطرےکےمترادف ہے۔مزید برآں یہ کہ حاشد قبیلہ جوپوری طرح مسلح ہے اورگذشتہ دنوں یمنی ڈکٹیٹرکےخلاف علم بغاوت اٹھائےہوئےتھااس وقت اپنےقبیلےميں اختلاف کاشکارہے۔یمن کےجنوبی علاقوں میں بھی کچہ چھوٹےچھوٹےایسےگروہ ہیں جوالقاعدہ سےمل کران علاقوں کاکنٹرول اپنےہاتھ میں لئےہوئےہیں۔جبکہ سعودی عرب اور امریکہ جیسےبعض بیرونی فریق انقلاب یمن کواپنےکنٹرول میں رکھناچاہتےہیں۔ان تمام باتوں کےپیش نظرمسلمہ امریہ ہےکہ یمنی انقلابیوں کےسامنےبہت سےنشیب وفرازہيں اورمستقبل غیرواضح ہے۔اس وقت بعض باہری طاقتوں سےوابستہ ذرائع ابلاغ یہ ظاہرکرنےکی کوشش کررہےہيں کہ صالح کی غیرموجودگی ميں یمن میں داخلی جنگ شروع ہوجانےکاامکان ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ یمن میں اب صالح کی کوئی حیثیت واہمیت باقی نہيں رہ گئی ہے۔ یمن میں آمریت کادور ختم ہوچکاہے اورقبائل بھی اب صالح کی حمایت نہيں کررہےہيں حتی انھوں نےعلی عبداللہ صالح کوواپس نہ آنےدینےکاآپس میں معاہدہ کرلیاہے۔لیکن یہ بھی نہيں بھولناچاہئےکہ یمن ایک قبائلی ملک ہےاورہرقبیلہ آئندہ حکومت میں اپناحصہ چاہتاہے۔اس کےساتھ ہی علی عبداللہ صالح کےزیرکنٹرول فوج بھی انقلاب یمن کےلئےمسلسل ایک خطرہ شمارہوتی ہےجس سےانقلابیوں کوبہت ہوشیاررہنےکی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز