7 جون 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزرات خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کینیڈا کے وزیر اعظم کے دورۂ افغانستان میں دیے گئے بیان کو مذہبی منافرت پھیلانے کا مصداق قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ دہشت گردی ایک مکروہ اور وحشت ناک چیز ہے اور اس کا ادیان سے کوئی تعلق نہیں ہے، کہا کہ ان ممالک نے جن کو کم از کم علاقے کے حالات کی تبدیلیوں کا مناسب ادراک ہے، اس قسم کی بیزار کن باتوں کو اپنی خارجہ پالیسی سے نکال دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ علاقے خاص طور پر افغانستان کی رائے عامہ کو یہ توقع تھی کہ کینیڈا کے حکام افغانستان میں کینیڈا کے فوجیوں کی جانب سے افغانستان کے بےگناہ شہریوں پر تشدد کے بارے میں کوئی بات کریں گے نہ یہ کہ وہ علاقے کے مسلمان عوام کے اعتقادات کی توہین کریں۔ تجربے نے یہ بتایا ہے کہ مغرب دہشت گردی کے مسئلے پر توجہ دینے سے زیادہ اسلامی ممالک کے ساتھ مغرب کی محاذ آرائی کا جواز پیش کرنے کے لیے بہانے کی تلاش میں ہے۔ اس قسم کے دعووں کا مقصد بھی اسلام فوبیا کی مذموم سوچ کو پھیلانا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ دہشت گردی کا حقیقی مقابلہ کرنے پر تمام ادیان الہی زور دیتے ہیں۔ اس بنا پر دہشت گردی میں اضافے کے اسباب و عوامل کے بارے میں مغربی حکام کی جانب سے جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ نہ صرف دنیا کی قوموں کے احترام اور حقوق کے منافی ہیں بلکہ یہ خود علاقے میں کشیدگی اور بحران پیدا کرنے کا باعث ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلام اور قرآن کی تعلیمات پر زور دیتے ہوئے کہ جو انسانوں کے حقوق کے احترام اور انسانی کرامت پر استوار اور ہر قسم کے رنگ نسل اور قومیت سے پاک ہیں، بارہا عالمی اداروں میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں مغرب کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے۔ درحقیقیت دہشت گردی کی جڑوں کے بارے میں بہت سے سوال پائے جاتے ہیں کہ جن کا مغرب کو جواب دینا چاہیے۔ تشدد اور دہشت گردی کی مذہبی عقائد کی طرف نسبت دینا ایک عوام فریبانہ طرزعمل ہے کہ جس پر گيارہ ستمبر کے مشکوک واقعات کے بعد جنگ پسندانہ پالیسیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔ اس بنا پر مغرب کو ابوغریب اور گوانتانامو جیلوں اور یورپ اور کینیڈا میں قائم کی گئی خفیہ جیلوں اور ان میں کیے جانے والے تشدد جیسے ہولناک جرائم کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا اور یہ قوموں اور ملکوں کا حق ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں میں ان مسائل کو اٹھائیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک عالمی مطالبہ ہے جب کہ مغرب اسے اسلامی ملکوں اور مسلمانوں کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اس بہانے سے دنیا کی قوموں اور ان کے مذہبی عقائد کی توہین کی جا رہی ہے اور امریکہ اور کینیڈا سمیت مغربی ممالک کو افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کی ترویج سے پیدا ہونے والے مسائل کے سلسلے میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت