ابنا: انہوں نے کہا کہ بحرینی حکومت کے تشدد آمیز اقدامات یہ ظاہرکرتےہیں کہ وہ گفتگو کرنےمیں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت بدستور شہریوں کے حقوق پامال کررہی ہے،گرفتار شدہ افراد پر فوجی عدالت میں مقدمے چلائے جارہےہیں نیز سعودی عرب کے فوجیوں کے ساتھ مل کر طرح طرح کی مجرمانہ کاروائیاں انجام دے رہی ہے بنابریں اس حکومت کے ساتھ کس طرح مذاکرات کئےجاسکتےہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل قیدیوں کی رہائي، برطرف شدہ ملازموں کی بحالی اور جارح سعودی فوجیوں کا انخلا ضروری ہے۔ ادھر بحرین میں انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نبیل رجب نے بھی کہا ہےکہ منامہ حکومت مذاکرات کے بارےمیں سنجیدہ نہیں لگتی ہے ۔ ادھر ایک اور انقلابی رہنما عباس عمران نے کہا ہے کہ ایمرجنسی ہٹانے کا اعلان اور مذاکرات کی پیش کش نمائشی اقدامات ہیں اور آل خلیفہ بالخصوص ولی عھد مکر وفریب سے مسائل حل کرنا چاہتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز